قوم نوح کے بت
قوم نوح کے بت
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ شیطان نے ہمیشہ انسان کو اللہ کی عبادت سے ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ قوم نوح علیہ السلام سے لے کر عرب کے مشرکین تک، انسان شیطان کے فریب میں آ کر نیک لوگوں کی محبت میں ان کی پوجا کرنے لگا۔ یہ داستان نہ صرف ایمان کو جھنجوڑنے والی ہے بلکہ ہمارے لیے ایک عظیم سبق بھی رکھتی ہے کہ کس طرح توحید سے دوری انسان کو شرک کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔ قوم نوح کے پانچ نیک اور بزرگ انسان تھے، جن کے انتقال کے بعد لوگوں نے ان کے نام پر بت بنا لیے۔ ان کے نام یہ ہیں:1. ود2. سواع3. یغوث4. یعوق 5. نسریہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے کے نیک اور صالح انسان تھے، جن کی پرستش کی جانے لگی۔ (صحیح بخاری: 2/732)لات: ایک بزرگ تھے جو حاجیوں کو ستو پلایا کرتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے نام پر بت بنایا گیا۔ (صحیح بخاری: ج 2/ ص 721)منات اور عزا عرب کے مشہور بت تھے، جنہیں مشرکین پوجتے تھے۔جب 8 ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو اس وقت کعبہ میں 360 بت نصب تھے۔ ان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تصویریں بھی تھیں، جن کے ہاتھوں میں لاٹری کے نیزے دکھائے گئے تھے۔ (بخاری: 2/614)
مسند احمد کی روایت کے مطابق ان مجسموں میں حضرت مریم کی تصویر بھی تھی۔ (البدایہ والنہایہ: 4/303)ہبل ایک مشہور بت تھا، جو ہابیل کے نام پر بنایا گیا تھا۔ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تھا، اور عرب کے مشرکین مصیبت کے وقت ہبل سے مدد مانگتے تھے۔ جیسے کہ ابو سفیان نے جنگ احد میں "اعل ہبل" کا نعرہ بلند کیا تھا۔ (بخاری: 2/579)
بخاری شریف میں ہے کہ قوم نوح علیہ السلام کے بتوں کو اہل عرب نے اپنایا۔قبیلہ ود نے ود کو پوجا۔قبیلہ ہذیل سواع کا پرستار تھا۔قبیلہ مراد اور بنو عطیف (مقام سرف کے رہنے والے) یغوث کی پوجا کرتے تھے۔قبیلہ ہمدان یعوق کو پوجتا تھا۔قبیلہ حمیر (اہل ذی کلاع) نسر کے ماننے والے تھے۔یہ بت حضرت نوح علیہ السلام کے طوفان کے دوران زمین میں دفن ہو گئے تھے۔ شیطان نے عرب کے لوگوں کو ان کا نشان بتایا، اور لوگوں نے انہیں زمین سے نکال کر دوبارہ پوجنا شروع کر دیا۔
یہ سب نیک بزرگ تھے۔ ان کے انتقال کے بعد شیطان نے لوگوں کے دل میں یہ بات ڈالی کہ ان بزرگوں کی یادگار قائم کرنی چاہیے۔
پہلے پہل ان کے مجسموں کی پوجا نہیں ہوتی تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ لوگ ان کی عبادت کرنے لگے۔ (تفسیر ابن کثیر)
اولیاء اللہ اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ توحید کا پیغام دیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی پوجا کرنا مشرکوں کا کام ہے۔۔
Comments
Post a Comment