حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی کے واقعات | The Life of Imam Jafar Sadiq (RA)

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے. 

 حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے پوتے اور حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ آپ کی والدہ حضرت ام فردہ تھیں، جو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت قاسم بن محمد کی بیٹی تھیں۔ حضرت ام فردہ کی والدہ حضرت اسماء، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبد الرحمن کی بیٹی تھیں۔ اسی لیے آپ فرمایا کرتے تھے کہ "ولدنی ابوبکر مرتین" یعنی میں دو مرتبہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے منسلک ہوں: ایک ظاہری طور پر (میرے نسب سے) اور دوسرا باطنی طور پر (علم دین کی وجہ سے)۔

آپ کی ولادت 13 ربیع الاول 80 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کو "صادق" یعنی سچا کہنے کی وجہ آپ کی سچائی اور دیانت تھی۔ آپ کی امامت اور قیادت کو سب نے تسلیم کیا۔ ایک مشہور قول ہے کہ جب کوئی آپ کو دیکھتا تو فوراً سمجھ جاتا کہ آپ خاندان نبوت سے تعلق رکھتے ہیں۔آپ کا شجرہ نسب یوں ہے:حضرت امام جعفر صادق بن حضرت امام محمد باقر بن حضرت امام زین العابدین بن حضرت امام حسین بن حضرت علی رضی اللہ عنہم۔

آپ فرمایا کرتے تھے کہ پانچ شخصوں کی صحبت سے پرہیز کرنا چاہئے ایک دروغ گو کہ تو اس سے ہمیشہ دھوکے میں رہے گا ،دوسرے احمق کہ وہ تیرا نفع چاہے گا لیکن تجھ کو نقصان پہنچے گا اور اس کو نہ معلوم ہوگا، تیسرے بخیل کہ تیرے بہترین وقت کو برباد کرے گا ، چوتھے فاسق کہ وہ تجھے ایک ادنی لقمہ پر بیچ ڈالے گا اور کمتر لقمہ کی طمع کرے گا اور پانچویں بزدل کہ تجھے ضرورت کے وقت تباہی میں چھوڑ دے گا۔حضرت لیث بن سعدؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حج کے لیے پیدل سفر کیا۔ جب مکہ مکرمہ پہنچا تو عصر کی نماز کے وقت جبلِ ابو قیس پر چڑھ گیا۔ وہاں میں نے ایک صاحب کو دعائیں مانگتے ہوئے دیکھا۔ وہ بار بار "یا رب، یا رب" کہہ رہے تھے ۔ پھر وہ شخص کچھ دیر خاموش ہوگیا"یا اللہ، یا اللہ" اور "یا حی، یا حی" اسی طرح کہتے رہے ۔ پھر "یا رحمان، یا رحیم" اور "یا ارحم الراحمین" کا ورد کیا۔پھر انہوں نے دعا کی: "یا اللہ، میرا انگور کھانے کا دل چاہ رہا ہے اور میری چادریں پرانی ہو گئی ہیں، مجھے عطا فرما۔" حضرت لیثؒ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم، ان کی دعا ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ان کے سامنے انگوروں سے بھری ہوئی ایک ٹوکری اور دو نئی چادریں آ گئیں۔ حالانکہ انگوروں کا موسم نہیں تھا۔انہوں نے انگور کھانے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا، "میں بھی شریک ہوں کیونکہ جب آپ دعا کر رہے تھے تو میں آمین کہہ رہا تھا۔" انہوں نے مجھے بھی انگور کھانے کی اجازت دی۔ ہم دونوں نے مل کر انگور کھائے، لیکن ٹوکری میں کوئی کمی نہ آئی۔ پھر انہوں نے مجھ سے کہا، "ان چادروں میں سےجو تمہیں پسند ہو لے لو۔" میں نے کہا، "مجھے چادریں نہیں چاہییں۔"پھر انہوں نے دونوں نئی چادریں پہن لیں اور پرانی چادریں ہاتھ میں لے کر نیچے اتر آئے۔ جب صفا اور مروہ کے درمیان پہنچے تو ایک سائل نے ان سے کہا، "رسول اللہ ﷺ کے بیٹے، یہ چادریں مجھے دے دیں، اللہ آپ کو جنت کا لباس عطا کرے۔" انہوں نے فوراً وہ چادریں اس سائل کو دے دیں۔میں نے اس سائل سے پوچھا، "یہ کون ہیں؟" اس نے جواب دیا، "یہ حضرت امام جعفر صادقؒ ہیں۔"اس کے بعد میں نے ان کو ڈھونڈا تاکہ ملفوظات طیبات سنوں مگر تلاش کے باوجود نہ ملے۔۔۔کشف المحجوب میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادقؒ کے پاس ایک دن حضرت داؤد طائیؒ آئے اور نصیحت طلب کی۔ آپ نے فرمایا: "اے ابو سلمان، آپ تو زاہد (دنیا سے بے رغبت) ہیں، آپ کو میری نصیحت کی کیا ضرورت ہے؟" حضرت داؤد طائی نے عرض کیا: "یا ابن رسول اللہ، آپ تمام مخلوق سے افضل ہیں اور سب کو نصیحت کرنا آپ پر لازم ہے۔" آپ نے جواب دیا: "میں ڈرتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے نانا حضرت رسول اللہ ﷺ مجھ سے یہ نہ پوچھیں کہ تم نے میری تعلیمات پر پوری طرح عمل کیوں نہیں کیا۔ یہ کام محض نسبت کی وجہ سے نہیں بلکہ عمل کی بنیاد پر شائستہ ہوتا ہے۔" یہ سن کر حضرت داؤد طائی رو پڑے اور کہا: "اے اللہ، جس کا وجود نبوت کے نور سے بنا، جس کے نانا رسول اللہ ﷺ ہیں اور ماں حضرت فاطمہؓ ہیں، وہ بھی پریشان ہے تو ہم جیسے عام لوگ کس حال میں ہوں گے۔"ایک دن آپ نے اپنے غلاموں سے کہا: "آؤ ہم آپس میں وعدہ کریں کہ قیامت کے دن جو شخص نجات پائے وہ دوسرے کی شفاعت کرے۔" غلاموں نے کہا: "یا ابن رسول اللہ، آپ کو ہماری شفاعت کی کیا ضرورت ہے؟ آپ کے نانا سب کے شفیع ہیں۔" آپ نے فرمایا: "مجھے اپنے اعمال پر شرم آتی ہے کہ قیامت کے دن اپنے نانا کا سامنا کروں۔"ایک مرتبہ ایک شخص کے دیناروں کی تھیلی گم ہو گئی۔ اس نے آپ پر الزام لگایا کہ آپ نے چوری کی ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ کتنے دینار تھے؟ اس نے کہا: "ایک ہزار۔" آپ اسے اپنے گھر لے گئے اور ایک ہزار دینار دے دیے۔ بعد میں اس شخص کو اپنی تھیلی کہیں اور سے مل گئی۔ وہ دینار واپس کرنے آیا، لیکن آپ نے لینے سے انکار کر دیا۔ جب لوگوں نے اسے بتایا کہ یہ حضرت امام جعفر صادقؒ ہیں، تو وہ بہت شرمندہ ہوا اور چلا گیا۔

آپ نے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا: عاقل کون ہے۔ امام نے کہا جو خیر وشر میں تمیز کرے۔ فرمایا یہ تمیز تو چو پایہ میں بھی ہے کہ جو ان کو مارتا ہے یا پیار کرتا ہے اس کو خوب پہچانتے ہیں۔ امام نے کہا پھر آپ کے نزدیک کون عاقل ہے۔ فرمایا جو دو خیر میں اور دوشر میں تمیز کرے تا کہ دو خیر میں سے بہترین خیر کو اختیار کرے اور دو شر میں سے بدترین شر کو دور کرے",ایک شخص نے مکہ مکرمہ میں حضرت امام جعفر صادقؒ کو ایک ہزار درہم دیے اور کہا کہ میرے لیے ایک مکان خرید دیں تاکہ جب میں آؤں تو اس میں رہ سکوں۔ آپ نے وہ تمام درہم اللہ کی راہ میں خرچ کر دیے۔ جب وہ شخص واپس آیا اور مکان نہ پایا تو اس نے وجہ پوچھی۔ آپ نے فرمایا: "میں نے تمہارے لیے جنت میں مکان خرید لیا ہے۔" اور ایک کاغذ اسے دیا جس پر لکھا تھا کہ یہ جنت کے مکان کا قبالہ (دستاویز) ہے۔اس شخص نے وہ کاغذ سنبھال کر رکھ لیا اور وصیت کی کہ اس کی وفات کے بعد یہ کاغذ اس کی قبر میں رکھ دیا جائے۔ اس کی وفات کے بعد وصیت کے مطابق کاغذ قبر میں رکھ دیا گیا۔ دو دن بعد وہ کاغذ قبر کے اوپر پایا گیا جس پر لکھا تھا: "حضرت امام نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔"

ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادقؒ حج کے سفر پر تھے۔ راستے میں ایک خشک کھجور کے درخت کے نیچے قیام کیا۔ آپ نے چاشت کے وقت اس درخت سے کھجوریں مانگیں تو وہ درخت فوراً سرسبز ہو گیا اور اس پر تازہ کھجوریں پیدا ہو گئیں۔ یہ کرامت دیکھ کر ایک دیہاتی (اعرابی) نے کہا: "یہ جادو ہے۔" آپ نے فرمایا: "یہ جادو نہیں، اگر میں دعا کروں تو تمہاری صورت کتے کی ہو سکتی ہے۔" جیسے ہی آپ نے یہ فرمایا، وہ شخص کتے کی صورت میں تبدیل ہو گیا۔ پھر جب اس نے معافی مانگی اور شرمندہ ہوا، تو آپ نے دعا کی اور وہ دوبارہ اپنی اصلی حالت میں واپس آ گیا۔

ایک دن کسی شخص نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے کا ذکر کیا کہ انہوں نے چار پرندوں کو ذبح کرکے ان کا گوشت ملا دیا تھا، پھر اللہ کے حکم سے وہ زندہ ہو گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: "کیا تم ویسا ہی دیکھنا چاہتے ہو؟" اس نے عرض کیا: "جی ہاں، یا ابن رسول اللہ۔" آپ نے آواز دی، تو ایک طاؤس، ایک کوا، ایک باز، اور ایک کبوتر حاضر ہو گئے۔ آپ نے انہیں ذبح کیا، ان کا گوشت ملا دیا، اور پھر آواز دی، تو سب زندہ ہو گئے۔

اسی طرح ایک ضعیف عورت کی گائے مر گئی تھی۔ وہ غمزدہ ہو کر رو رہی تھی۔ آپ نے دعا فرمائی، تو وہ گائے زندہ ہو گئی۔آپ کی وفات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ کو زہر دے کر شہید کیا گیا۔آپ کی وفات 15 رجب 149ھ کو اڑسٹھ سال چند ماہ مدینہ منورہ میں ہوئی آپ کی آخری آرام گاہ جنت البقیع میں ہے۔۔۔


Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam