اویس قرنی ؒ کون تھے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے..

 حضرت سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے۔ سرکار دو عالم ﷺ نےارشاد فرمایا: ”بےشک، اللہ پاک اپنے بندوں میں سے انہیں زیادہ پسند فرماتا ہے جو مخلص، پرہیزگار اور گم نام ہوتے ہیں۔ جن کے چہرے گرد آلود، بھوک کی وجہ سے پیٹ کمر سے ملے ہوئے، اور بال بکھرے ہوئے ہوں۔ اگر وہ امراء کے پاس جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہ ملے۔ اگر کسی محفل میں موجود نہ ہوں تو کوئی ان کے متعلق سوال نہ کرے۔ اگر موجود ہوں تو کوئی انہیں اہمیت نہ دے۔ اگر وہ کسی سے ملاقات کریں تو لوگ ان کی ملاقات سے خوش نہ ہوں۔ اگر وہ بیمار ہو جائیں تو کوئی ان کی عیادت نہ کرے، اور جب مر جائیں تو لوگ ان کے جنازہ میں شریک نہ ہوں۔“صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا :”یا رسول اللہ ﷺ! ایسے لوگوں سے ہماری ملاقات کیسے ہو سکتی ہے؟“آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” اویس قرنیؒ انہی لوگوں میں سے ہیں۔“ صحابۂ کرام ؓنے عرض کیا: ”یا رسول اللہ ﷺ! اویس قرنی ؒ کون ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ”اس کا قد درمیانہ، سینہ چوڑا، رنگ شدید گندمی، داڑھی سینے تک پھیلی ہوئی۔ اس کی نگاہیں جھکی جھکی، اپنے سیدھے ہاتھ کو الٹے ہاتھ پر رکھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے۔ زارو قطار رونے والا ہے۔ اس کے پاس دو چادریں ہیں، ایک بچھانے کے لئے اور ایک اوڑھنے کے لئے۔ دنیا والوں میں گمنام ہے، لیکن آسمانوں میں اس کا خوب چرچا ہے۔ اگر وہ کسی بات پر اللہ پاک کی قسم کھا لے تو اللہ پاک ضرور اس کی قسم کو پورا فرمائے گا۔ اس کے سیدھے کندھے کے نیچے سفید نشان ہے۔ کل بروز قیامت نیک لوگوں سے کہا جائے گا: ” تم لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ۔“ لیکن اویس قرنی ؒسے کہا جائے گا: ”تو ٹھہر جا اور لوگوں کی سفارش کر۔“ چنانچہ وہ قبیلہ ربیعہ اور مضر کے ریوڑوں کی تعداد کے برابر گناہ گاروں کی سفارش کرےگا ۔“عاشقِ رسول ﷺحضرت اویس قر نی ؒکو خیرالتابعین کا لقب حضور اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے عطا ہوا۔ آپ بیت المقدس میں پیدا ہوئے اور بعد میں یمن میں سکو نت اختیار کی۔ آپ ؒ کے والد محترم آپ کی اوائل عمر ی میں وفات پاگئے تھے ۔بحالتِ یتیمی آپ کی والدہ نے آپ کی پرورش و دیکھ بھال میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی، جب حضرت اویسِ قر نی ؒ نے ہوش سنبھالا تو اپنی والدہ کو بیمار اور نا بینا پایا، لہٰذا اُسی وقت سے آپ نے اپنی والدہ کی خد مت و اطاعت کو اپنا فریضہ بنا لیا اور اس میں کبھی کسی قسم کی کمی و کوتاہی نہ کی ،والدہ کی فرماں برداری اور خدمت کی بناء پر ہی آپ کو بار گاہِ الٰہی اور بار گاہ ِ نبوی میں مقبولیت ملی ۔

آپ کا نام ِنامی اویس بن عامر اور دوسرا نام عبد اللہ بھی بیان ہوا ہے، لیکن احادیث میں آپ کا تذکرہ اویس کے نام سے ہی ملتا ہے، دیگر کتُب سے بھی آپ کے نام اویس کی ہی تصدیق ہوتی ہے۔ آپ کی کنیت ابو عمرو تھی، آپ کے القاب میں سب سے اچھا لقب’’ خیرالتا بعین ‘‘ہے، جو روایت کے مطابق آپ کو بارگاہ رسا لت سے عطا ہوا ۔آپ کے القابات میں ’’سید التا بعین‘‘ بھی ہے ،کشف المحجوب میں آپ کو ’’آفتاب ِاُمت ‘‘اور شیخ ملت و دین کے القابات سے نوازا گیا ہے ۔

۔آپ کا شمار تا بعین ِکِبار میں ہوتا ہے ،آپ نے عہد نبوی کا دورپا یا، لیکن حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دیدار سے فیض یاب نہ ہوسکے، اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ اپنی والدہ کی ضعیفی اور نابینا ہونے کی وجہ سے اِنہیں چھوڑ کر سفر نہیں کرسکتے تھے، لہٰذا اویس قرنی ؒ  تابعی ہیں، صحابی نہیں، لیکن دو جہانوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے آپ کی آنحضرت ﷺ سے محبت اور ماں کی خد مت کو فریضہ بنانے کو خراجِ تحسین پیش فر مایا۔حضرت اویس قر نی ؒکا ذکر کرکے رسول اکرم ﷺ نےصحابہؓ کو حکم دیا کہ تم میں سے جوبھی اویس قرنی ؒ سے ملے، اس سے دعاکرائے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت عمر فاروق ؓ کو خاص طور پر یہ حکم دیا کہ اے عمرؓ، جب تم اویس قرنی ؒ سے ملو تو اُسے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ وہ تمہارے لیے دعائے مغفرت کرے ،کیونکہ وہ قبیلہ ربیعہ اور مضر کے برابر لوگوں کی شفاعت کرے گا۔ دوسری روایت میں امیر المؤمنین ،حضرت عمر فاروق ؓ اور امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ ؓ دونوں کو حضرت اویس قر نی ؒسے طلبِ دعا کا حکم دیا گیااور دونوں صاحبان نے حضرت اویس قر نی ؒ سے اپنے لیے دعا کروائی۔۔روایت بیان کی جاتی ہے کہ روزِ قیامت کوئی حضرت اویس قرنی ؒکو نہیں دیکھ سکے گا، کیونکہ حضرت اویس قرنیؒ نے دنیا میں اس لئے چُھپ کر اللہ کی عبادت کی کہ دنیا میں کوئی بندہ انہیں پہچان نہ لے، سو اللہ تعا لیٰ ستر ہزار فرشتے اویس قرنی ؒ کی شکل میں داخل ِبہشت فرمائے گا، تاکہ مخلوق انہیں نہ دیکھ پائے، سوائے اُس شخص کے جسے اللہ چاہے، اُسے آپ کی زیارت نصیب ہوگی۔ ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد ایک موقع پر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ انہوں نے خطبے کے دوران فرمایا اے اہل نجد! کھڑے ہو جاؤ۔۔۔نجد والے لوگ کھڑے ہوگئے آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص قرن سے بھی تعلق رکھتا ہے؟ ا نھوں نے کہا ہاں! آپ نے ان سے اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا اویس نام کا ایک دیوانہ ہے ،جو نہ آبادی میں آتا ہے اور نہ کسی سے ملتا ملاتا ہے اس کی خوراک غذا بھی عام لوگوں سے مختلف ہے اسے خوشی و غم کا کچھ پتہ نہیں، جب لوگ ہنستے ہیں تو وہ ہوتا ہے جب لوگ روتے ہیں تو وہ ہنس رہا ہوتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم اس سے ملنا چاہتے انہوں نے کہا حضور! وہ صحرا میں ہمارے اونٹوں کے پاس ملے گا، حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہٗ اٹھے اور اس طرف چل پڑے بلآخر حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے کیا دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں، بیٹھ گئے تاکہ نماز سے فارغ ہوں۔۔۔ وہ نماز سے فارغ ہوئے تو دونوں حضرات کو سلام کیا اور اپنی ہتھیلی اور پہلو کے نشانات انہیں دکھائے ان حضرات نے پہچان لیا تو ان سےدعا کی خواہش کی۔۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچایا، اور امت کے بارے میں دعا کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان انہیں پہنچایا، کچھ وقت یہ حضرات وہاں رہے بعد میں حضرت اویس رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ حضرات نے تکلیف کی ہے اب آپ واپس تشریف لے جائیں قیامت قریب ہے۔وہاں ہمیں وہ ملاقات نصیب ہوگی جو کبھی ختم نہ ہوگی ،میں اس دن قیامت کے راستے کا سامان سفر تیار کر رہا ہوں۔۔۔

 جب قرن والے لوگ واپس گئے تب جا کر آپ کی قدرومنزلت ان کی نگاہوں میں کھلی، یہ دیکھ کر اویس قرنی رضی اللہ عنہ کوفہ آگئے، اور ایک دفعہ انہیں ہرم بن حیان رضی اللہ عنہ نے دیکھا اس کےبعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی غزوات تک انہیں کسی شخص نے نہ دیکھا ،حضرت علی المرتضی رضی اللہ نے مخالفین کے ساتھ جنگ شروع کی تو اویس قرنی رضی اللہ عنہ اچانک ظاہر ہوں گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑتے ہوئے جنگ صفین میں شہادت حاصل کی۔۔۔۔ 

۔ ہمارے لئے حضرت اویس قرنی ؒکی زندگی مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اپنی خواہش کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو، والدین کی خدمت میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے، ساتھ ہی عُشّاق رسول کو اویس قرنی ؒ نے حضور اکرم ﷺ کی اطاعت و محبت اور ادب کی لا منتہا منزلوں سے آشنا کرایا ہے، حضرت اویس قرنی ؒ جسمانی طور پر لاکھ دور صحیح، لیکن جو فضل و کرم حضور ﷺ کا آپ ؒ پر ہوا ،وہ یقیناً قابل ِرشک و ستائش ہے۔



Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam