عشق کے درجات
عشق، ایک ایسا عظیم جذبہ ہے جو انسان کو اپنی ذات سے نکال کر محبوب کی طرف لے جاتا ہے۔ حضرت خواجہ بندہ نواز رحمتہ اللہ علیہ نے عشق کے پانچ درجات بیان کیے ہیں جو انسان کو اپنے روحانی سفر میں مکمل بنا دیتے ہیں۔
شریعت عشق کا پہلا درجہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ محبوب (اللہ تعالیٰ) کی صفات کو سننا، ان کے حسن و جمال کی باتیں سن کر دل میں محبت اور شوق پیدا کرنا۔ اس درجہ میں انسان کے دل میں طلبِ محبوب کی چنگاری روشن ہوتی ہے۔
طریقت عشق کا دوسرا درجہ ہے، جس میں انسان اپنے محبوب کی تلاش میں نکلتا ہے۔ وہ محبوب کی راہ پر چلتا ہے اور اپنے اعمال کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالتا ہے۔ اس راہ میں مجاہدہ اور قربانی کی ضرورت پڑتی ہے۔
حقیقت عشق کا تیسرا درجہ ہے، جہاں انسان ہر وقت محبوب کے خیال میں گم رہتا ہے۔ اس کا دل اور دماغ محبوب کے ذکر اور یاد سے کبھی خالی نہیں ہوتا۔ عاشق کی زندگی کا مقصد صرف محبوب کی محبت ہوتا ہے۔
معرفت عشق کا چوتھا درجہ ہے، جہاں عاشق اپنی مراد اور خواہشات کو محبوب کی رضا میں فنا کر دیتا ہے۔ عاشق کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ محبوب کی مراد کے مطابق زندگی گزارے اور اپنی ذات کو بھلا دے۔
وحدت عشق کا آخری اور سب سے بلند درجہ ہے، جہاں عاشق اپنے وجود کو ظاہری اور باطنی طور پر ختم کر دیتا ہے۔ عاشق کو صرف محبوب کا وجود حقیقی نظر آتا ہے۔ اس درجہ میں عاشق اور محبوب کی جداگانہ حیثیت ختم ہو جاتی ہے اور دونوں بحرِ عشق میں فنا ہو جاتے ہیں۔
یہ پانچ درجات عشق کے سفر کو مکمل کرتے ہیں۔ جب یہ تمام مراحل طے ہو جاتے ہیں، تو صرف عشق باقی رہ جاتا ہے۔ عاشق اور معشوق ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں اور ہر طرف محبوب ہی محبوب نظر آتا ہے۔ کسی بزرگ نے فرمایا ہے:
"وجود دو عشق کے درمیان ہے اور آخر بھی عشق سے خالی نہیں ہوتا۔"گویا اول و آخر، ظاہر و باطن سب کچھ عشق ہی عشق ہے۔یہی عشق انسان کو اپنے حقیقی محبوب، یعنی اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس کے قرب میں فنا کر دیتا ہے۔
Comments
Post a Comment