حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، صحابی رسول ﷺ

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں ایسے لوگ گزرے ہیں جنہیں "محدث" کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوتے تھے۔ اگر اس امت میں کوئی محدث ہوگا تو وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوں گے۔ اس سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان بھی واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نے فرمایا، اگر ہم نے کسی معاملے میں رائے دی تو اللہ تعالیٰ کی وحی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق نازل ہوئی۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں نے خواب میں دیکھا کہ قضا و قدر کے فرشتے ایک کنویں میں ڈول ڈال رہے ہیں۔ پہلے میں نے اس ڈول سے اتنا پانی نکالا جتنا اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ڈول پکڑا اور پانی نکالنا شروع کیا۔ وہ آہستہ آہستہ پانی نکال رہے تھے، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت کرے۔ اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پانی نکالنا شروع کیا۔ میں نے ان سے زیادہ طاقتور کسی کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے کنویں سے اتنا پانی نکالا کہ حوض بھر گیا اور تمام لوگ سیراب ہو گئے۔یہ خواب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کی دلیل ہے۔ ان کے بے شمار فضائل ہیں اور ان سے بہت سی کرامات ظاہر ہوئیں ۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) اسلام کے دوسرے خلیفہ اور حضرت محمد ﷺ کے قریبی ساتھی اور سسر تھے۔ آپ کو اسلامی تاریخ کی عظیم شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا شمار ان دس خوش نصیب صحابہ میں ہوتا ہے جنہیں دنیا میں جنت کی بشارت دی گئی تھی۔آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد خلافت سنبھالی۔ آپ کو ایک عادل، بہادر اور انصاف پسند حکمران کے طور پر جانا جاتا ہے۔ آپ کی عدالت میں مسلم اور غیر مسلم سب کو برابر انصاف ملتا تھا، اسی وجہ سے آپ کو "فاروق" کا لقب دیا گیا، جس کا مطلب ہے حق اور باطل میں فرق کرنے والا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا شجرہ نسب رسول اللہ ﷺ سے نویں پشت میں جا ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ قبیلہ قریش کی شاخ مرہ سے تھے، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ قبیلہ قریش کی شاخ عدی سے تھے۔آپ اپنے مسلمان بھائیوں کا خاص خیال رکھتے۔۔۔ایک دفعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر کو مدنیہ منورہ سے کسی دور دراز علاقہ کی طرف روانہ کیا۔ ایک دن آپ اچانک لبیک لبیک" کہنے لگے۔ کسی کو سمجھ نہیں آئی کہ آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ لشکر واپس مدینہ منورہ آیا۔ جب امیر لشکر نے فتوحات کی تفصیل سنائی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "یہ سب چھوڑو، مجھے اُس شخص کے بارے میں بتاؤ جس تم نے ظلم سے دریا میں پھینک دیا تھا۔امیر لشکر نے عرض کیا: اے امير المومنين ميرا أس کے ساتھ زیادتی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ہم ایک دریا پر پہنچے، جس کی گہرائی کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔ جب دریا کو پار کرنا چاہا تو میں نے اُس شخص کے کپڑے اتروا کر اُسے دریا میں اتارا۔ سرد ہوا چل رہی تھی، جس سے وہ متاثر ہوا اور زور سے یا عمر مدد پکارنے لگا۔ سردی کی شدت کی وجہ سے وہ فوت ہوگیا۔"حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "جب اُس مظلوم نے مجھے پکارا تو میں نے جواباً لبیک لبیک کہا۔ اگر تم نے جان بوجھ کر اُس کے ساتھ زیادتی کی ہوتی تو میں تمہیں سخت سزا دیتا۔ جاؤ، اُس کے اہل خانہ کو خون بہا ادا کرو اور آئندہ ایسا نہ کرنا۔ یاد رکھو، میرے نزدیک ایک مسلمان کی جان کا قتل کئی غیر مسلموں کے قتل سے زیادہ سنگین ہے۔"روایت میں ہے کہ جب مصر فتح ہوا تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ وہاں کے گورنر تھے۔ ایک دن اہلِ مصر آپ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: "دریائے نیل اس وقت تک نہیں بہتا جب تک ہم ایک خاص رسم ادا نہ کریں۔" حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے پوچھا: "کون سی رسم؟" انہوں نے بتایا: "ہم سال کے ایک خاص دن ایک لڑکی کو زیورات اور عمدہ لباس پہنا کر دریائے نیل میں پھینک دیتے ہیں، ورنہ دریا کا پانی خشک ہو جاتا ہے۔"یہ سن کر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اسلام ایسی بری رسموں کو ختم کرنے کے لیے آیا ہے۔ اب یہ کام نہیں ہوگا۔" جب وہ دن گزر گیا، تو دریا کا پانی خشک ہو گیا اور لوگ ہجرت کرنے لگے۔حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ سارا واقعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر بتایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں ایک خط بھیجا اور فرمایا: "یہ خط دریائے نیل میں ڈال دو۔" اس خط میں لکھا تھا:"اللہ کے بندے، امیر المومنین کی طرف سے دریائے نیل کے نام! اگر تم اپنے زور سے بہتے ہو تو مت بہنا، اور اگر تم اللہ کے حکم سے بہتے ہو، تو ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تمہیں جاری رکھے۔"جب یہ خط دریا میں ڈالا گیا، تو اگلے دن پانی تیرہ فٹ بلند ہو کر بہنے لگا۔ اس کے بعد سے یہ رسم ختم ہو گئی اور لوگ اس برے عمل سے محفوظ ہو گئے۔جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، تو روایت میں آتا ہے کہ اس دن زمین پر اندھیرا چھا گیا۔ بچے اپنی ماؤں سے کہتے تھے: "لگتا ہے قیامت آ گئی ہے۔" مائیں جواب دیتیں: "نہیں بیٹا، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔"27 ذی الحج 23 ہجری کو نماز فجر کے دوران ایک مجوسی شخص، ابو لولو فیروز، نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر خنجر سے حملہ کر کے زخمی کر دیا۔ اس زخم کی وجہ سے آپ تین دن بعد، یکم محرم 24 ہجری کو شہید ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو مبارک میں دفن کیا گیا۔








Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam