اصحاب رس،صنوبر پرست قوم
اصحاب رس ایک صنوبر پرست قوم تھی ، صنوبر کو شاہ درخت بھی کہتے ہیں اور اسے یافث بن نوح نے اُگایا تھا اور وہ درخت ان کے زمانے تک ویسے کا ویسا سر سبز و شاداب تھا، یہ درخت ایک روشناب نامی چشمہ کے کنارے واقعہ تھا اور یہ درخت سلیمان بن داؤد کے بعد بھی باقی تھا، اور یہ اصحاب رس آذر بائیجان کے قریب رو دارس“ کے علاقہ میں نمودار ہوئے۔ ارس نامی نہر کے کنارے بارہ شہر آباد کئے گئے تھے اور یہ سب کے سب کوہ البرز، کے دامن میں واقع تھے، اس زمانے میں کوئی نہر بھی نہر ارس سے زیادہ میٹھی اور پر رونق نہ تھی اور ان کے آباد کردہ شہروں میں زیادہ کوئی شہر بھی زیادہ پر رونق اور پر کیف نہ تھا، ان کے آباد کردہ بارہ شہروں کے نام یہ تھے:(۱) آبان (۲) آر (۳) دی (۴) جهمن (۵) اسفند یار (۲) فروردین (۷)اردیبهشت (۸) خردار (۹) مرداد (۱۰) تیر (۱۱) مهر (۱۲) شہر یور۔-۔ ان میں سے اسفند یار اس زمانے کے بادشاہ کا دار الحکومت تھا، اس بادشاہ کا نام ترکوز بن غابور تھا، بعض مورخ اس کا نسب آل ثمود سے اور بعض نمرود کے ساتھ ملاتے ہیں، یہ بادشاہ ایک دوسرے بادشاہ بیژن بن گودرز کا ٹیکس گزار تھا، انہوں نے صنوبر کے درخت ہر شہر میں اگا رکھے تھے اور نالیاں بنا کراس روشناب چشمہ کا پانی ان درختوں تک پہنچاتے تھے اور ان لوگوں نے اس چشمے کا پانی اپنے اوپر اور اپنے حیوانات پر حرام قرار دیا تھا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ جو پانی ہمارے خداؤں کی زندگی کا ذریعہ ہو وہ ہم پر حرام ہے اور اگر کوئی شخص اس چشمے کا پانی پی لیتا تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے، ہر مہینہ کی ابتداء میں انہوں نے ایک عید کا دن مقرر کیا ہوا تھا، جس دن یہ سب لوگ ایک شہر میں اکٹھے ہوتے اور اپنی توفیق کے مطابق قربانی بھی ساتھ لاتے، جب سارے لوگ جمع ہو جاتے تو اس درخت پر ایک نقش شدہ ریشمی چادر ڈال دیتے اور پھر اپنی اپنی قربانی کو ذبح کر دیتے تھے، جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد ان کو جلانا شروع کر دیتے اور کافی آگ بھڑکاتے جب آگ سے دھواں نکتا اور ان کو کچھ نظر نہ آتا اسی وقت یہ گڑ گڑاتے اور رورو کر صنوبر کے درخت سے التجا کرتے کہ ہمارے گنا ہوں اور خطاؤں سے درگزر فرما، ان کے جواب میں شیطان دھیمی دھیمی آواز میں انہیں کہتا تم مطمئن ہو میں تمہاری قربانیوں سے خوش ہوں اور میں تم سے راضی ہوں۔ جب یہ آواز وہ سنتے تو خوشی خوشی اٹھتے اور شراب و کباب کی محفلیں آراستہ کر کے نغمات گا نا شروع کر دیتے ، اسی طرح ایک دن رات ان کا یہ سلسلہ جاری رہتا اور ہر ماہ کا آغاز ان کے لیے یوم عید ہوتا ، اہل عجم نے اپنے مہینوں کے نام انہی شہروں کے نام پر رکھ لیے ہیں ۔ ان کا یہ سلسلہ ہر ماہ ہر شہر میں تبدیل ہوتا رہتا، آخر کار عید کا جشن دار الحکومت اسفند یار میں آپہنچا، چونکہ یہ دارالحکومت تھا اس لیے اب دو گنا قربانیاں تیار کی جاتیں اور وہاں صنوبر کے درخت کے پاس ایک ریشمی خیمہ نصب کیا جاتا، اور اس کے بارہ دروازے بنا کر ہر دروازے پر ہر شہر کے مخصوص لوگوں کو ٹھہرایا جاتا تھا، وہ خیمہ مختلف حیوانات کی صورتوں سے مزین کیا جاتا ، حسب سابق جب قربانیاں ذبح کی جاتیں تو بڑی آگ روشن کر کے قربانیوں کو جلانا شروع کر دیتے جب آگ سے اتنا دھواں اٹھتا کہ نظر کچھ نہ آتا تو اس وقت یہ لوگ آہ وزاری کرنا اور گڑ گڑانا شروع کر دیتے تھے، اور درخت کو خدا سمجھ کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے، شیطان جب ان کی یہ حالت دیکھتا تو اس صنوبر کے درخت کو زور سے جھٹکا دیتا اور ہلاتا اور بآواز بلند کہتا تمہیں مبارک ہو تمہارے گناہ میں نے معاف کر دیئے ہیں اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ بھی تم پر اسی طرح مہربان رہونگا، شیطان کی یہ آواز سن کر یہ لوگ سجدہ سے سر اٹھاتے اور خوشی خوشی شراب کی محفل سجاتے اور اتنی شراب خوری کرتے کہ مست اور بے ہوش ہو کر زمین پر پڑے رہتے۔
یہی سلسلہ بارہ دن تک جاری رہتا اور پھر تیرھویں دن یہ تمام لوگ اپنے شہروں کو چلے جاتے ، جب ان لوگوں کی سرکشی اور بغاوت طول پکڑ گئی تو خدا نے بنی اسرائیل میں سے ایک نبی کو مبعوث فرمایا جو کہ حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل کے فرزند یہودا کی اولاد میں سے تھے۔ اس نبی کا نام حنظلہ “ تھا اور حنظلہ بن صفوان سچائی اور حقیقت پسندی میں اتنا مشہور تھا کہ لوگ انہیں" حنظلہ" الصدق“ پکارتے تھے، آخر کار خدا نے اسی حنظلہ کو حکم دیا کہ اپنے ملک شام کو چھوڑو اور ان اصحاب الرس کو دعوت توحید دو، اور خدا کا دین سکھاؤ۔نبی خدا نے پہنچ کر تبلیغ دین شروع کی اور کافی عرصہ تبلیغ کرتے رہے لیکن کچھ اثر نہ ہوا اور انہوں نے نبی کی کوئی بات نہ مانی، آخر کار نبی نے دُعا مانگی کہ خدایا اس قوم پر عذاب نازل فرما، اللہ نے نبی کی بد دعا قبول فرمائی اور ایک پرندہ جو ان کے قریب پہاڑ پر رہتا تھا ان لوگوں پر مسلط کر دیا اس پرندہ کو یہ لوگ عنقاء کہتے تھے۔ وہ پرندہ شہر میں آتا اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اٹھا کر لے جاتا اور کھا جاتا تھا جہتی کہ ان لوگوں کے دیکھتے دیکھتے ان کے بچوں کو مارتا رہتا۔-اس عذاب سے لوگوں میں وحشت اور دہشت پھیل گئی آخر کار وہ نبی کے پاس آئے اور درخواست کی کہ اے نبی !خدا سے دعا مانگوکہ یہ پرندہ ہلاک ہو جائے اور ہمیں اس عذاب سے نجات ملے ، اگر ہمیں اس عذاب سے نجات مل گئی تو ہم ایمان لائیں گے۔ نبی نے دعا مانگی اور آسمان سے بھی گری اور وہ پرندہ ہلاک ہوگیا، انہیں عذاب سے نجات مل گئی لیکن اس کے بعد بھی وہ نہ ایمان لائے اور نہ ہی پیغمبر کی اطاعت کی، بلکہ اپنی سرکشی پر ڈٹے رہے، پھر حضرت حنظلہ نے خدا سے شکایت کی۔
ایک دن عید کا جشن شہر اسفند یار میں منایا جا رہا تھا کہ پیغمبر خدا وہاں آگئے ، اور لوگوں کو دیکھا کہ درختوں کو سجدہ کر رہے ہیں تو پیغمبر نے خدا سے التجاء کی کہ خدایا یہ لوگ درختوں کی پوجا کرتے ہیں، جو کوئی نفع و نقصان نہیں دیتے لہذا اپنی قدرت سے ان درختوں کو خشک کر دے۔ صبح ہوئی تو وہ تمام درخت خشک ہو چکے تھے اور ان کے پتے وغیرہ جھڑ چکے تھے لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو وحشت زدہ ہو گئے کچھ لوگ کہنے لگے حنظلہ نے ہمارے خداؤں پر جادو کر دیا ہے۔
کچھ کہنے لگے نہیں ہمارے خدا ہم سے ناراض ہو گئے ہیں، لہذا انہوں نے اپنی رونق کو ہم سے پنہاں کر لیا ہے، الغرض طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں۔
حضرت حنظلہ نے انہیں فرمایا : تم ان درختوں کو چھوڑو اور خدائے واحد کی عبادت شروع کرو، لوگوں نے ان کی بات نہ مانی اور فیصلہ کیا کہ اس پغمبر خدا کو قتل کر دو تجویز یہ سوجی کہ اس صنوبر کے درخت کے پاس ایک کنواں کھودا جائے ، جب پانی نکلنے لگا تو انہوں نے لوہے کے ٹکڑے اس میں ڈالنا شروع کیا اور پانی کنوئیں سے نکالتے رہے، آخر کار انہوں نے نبی کو پکڑ کر اسی کنوئیں میں اوندھے منہ ڈال دیا اور اوپر پتھروں سے اس کنوئیں کا منہ بند کر دیا اور اوپر نہر کا پانی چلانا شروع کر دیا، چونکہ لغت میں رس کنوئیں کو کہتے ہیں اس لیے ان لوگوں کو اصحاب رس کہا جاتا ہے ۔:
کنوئیں کا منہ بند کرنے کے بعدصبح سے شام تک نبی کی آہ وبکا سنتے رہے کہ وہ کہتے تھے۔"اے میرے سردار! میرے مکان کی تاریکی کو دور فرما اور مصیبت کی سختی کو تو جانتا ہے، میرے بے بسی اور بے چارگی پر رحم فرما، اور میری روح جلدی قبض فرما، اور میری دعا جلد قبول فرما۔"
اس کے بعد اللہ نے جرائیل کو حکم دیا کہ ان اصحاب رس کو فورا ہلاک کر دیا حائے ۔۔۔۔عید کے موقع پر یہ تمام لوگ جمع تھے کہ تیز رفتار سرخ آندھی چلی، یہ لوگ ایک دوسرے پر گرنے لگے، پھر زمین گندھک کی مانند ہوگئی اوپر سے سیاہ بادل آیا جس سے آگ برسنے لگی ، ہوا چلتی رہی آگ بھڑکتی رہی اور یہ لوگ جھلستے گئے حتی کہ ان بارہ شہروں کا ایک باسی بھی باقی نہ رہا۔۔
Comments
Post a Comment