مقدس پتھر

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

 شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔

مقام ابراہیم ایک مقدس پتھر ہے جو کعبہ معظمہ سے چند گز کی دوری پر رکھا ہوا ہے۔ یہ وہی پتھر ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی تعمیر فرما رہے تھے تو جب دیواریں سر سے اونچی ہوگئیں تو اسی پتھر پر کھڑے ہوکر آپ نے خانہ کعبہ کی دیواروں کو مکمل فرمایا یہ آپ کا معجزہ تھا کہ یہ پتھر موم کی طرح نرم ہو گیا اور آپ کے دونوں مقدس قدموں کا اس پتھر پر بہت گہرا نشان پڑ گیا۔۔ آپ کے قدموں کے مبارک نشان کی بدولت اس مبارک پتھر کی فضیلت و عظمت میں اس طرح چار چاند لگ گئے کہ خدا تعالی نے اپنی کتاب مقدس قرآن مجید میں دو جگہ اس کا ذکر فرمایا ہے۔۔۔۔ ایک جگہ پر آیا ہے کہ کعبہ مکرمہ میں خدا کی بہت سی روشن اور کھلی ہوئی نشانیاں ہیں اور نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی""" مقام ابراہیم"" ہے دوسری جگہ اس پتھر کی عظمت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ۔۔ چار ہزار برس کے طویل زمانے سے اس بابرکت پتھر پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدم مبارک کے نشان موجود ہیں اس طویل مدت سے یہ پتھر کھلے آسمان کے نیچے زمین پر رکھا ہوا ہے۔۔۔ اس پر 4000 برساتیں گزر گئیں۔۔۔ہزاروں آندھیوں کے جھونکے اس سے ٹکرائے بار ھا خانہ کعبہ میں پہاڑی نالوں سے برسات میں سیلاب آیا یہ مقدس پتھر سیلاب کی تیز دھاروں میں ڈوب رہا ،کروڑوں انسانوں نے اس پر ہاتھ پھیرا مگر اس کے باوجود آج تک کے نشان اس پتھر پر باقی ہیں جو بلاشبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک بہت ہی بڑا اور نہایت ہی معزز معجزہ ہے۔۔۔ یہ پتھر خدا کریم کی کھلی ہوئی روشن نشانیوں میں سے ایک بہت بڑا نشان ہے اور اس کی شان کا یہ عظیم الشان نشان مسلمان کے لئے بہت بڑی عبرت کا سامان ہے کہ خدا نے تمام مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ تم لوگ میرے مقدس گھر خانہ کعبہ کے طواف کے بعد اسی پتھر کے پاس دو رکعت نماز ادا کرو تم لوگ نماز تو میرے لیے پڑھو سجدہ میرا ادا کرو لیکن مجھے یہ محبوب ہے کہ سجدوں کے وقت تمہاری پیشانی اس مقدس پتھر کے پاس زمین پر لگیں کہ جس پتھر پر میرے خلیل جلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کا نشان بنا ہوا ہے۔۔۔۔

 واللہ اعلم بالصواب  

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam