حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ
حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ
طریقت کے اماموں میں سے ایک بزرگ حضرت ابوالفیض ذوالنون ابن ابراہیم مصری رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔۔۔ آپ کا نام ثوبان تھا ۔۔۔آپ کے والدین نوبہ کے رہائشی تھے۔۔آپ دبلے پتلے کمزور آدمی تھے۔۔آپ کا رنگ سرخی مائل تھا اور داڈھی میں سفیدی نہ تھی۔۔۔اہل معرفت اور مشائخ طریقت میں آپ بڑے برگزیدہ تھے ریاضت و مشقت اور طریق ملامت کو پسند کر رکھا تھا مصر کے تمام رہنے والے آپ کے مرتبہ کی عظمت کے پہچاننے میں عاجز رہے ۔۔ یہاں تک کہ مصر میں کسی نے بھی آپ کے حال و جمال کو انتقال کے وقت تک نہ پہچانا۔۔۔ جس رات آپ نے رحلت فرمائی اس رات ستر لوگوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کی آپ نے ان سے فرمایا خدا کا ایک محبوب بندہ دنیا سے رخصت ہو کر آرہا ہے میں اس کے استقبال کے لیے آیا ہوں ۔ جب حضرت ذوالنون مصری نے نے وفات پائی تو ان کی پیشانی پر یہ لکھا گیا، ترجمہ۔۔۔یہ اللہ کا محبوب ہے
اللہ کی محبت میں فوت ہوا ہے یہ خدا کا شہید ہے۔ لوگوں نے جب آپ کا جنازہ کاندھوں پر اٹھایا تو فضا کے پرندوں نے پرے باندھ کر جنازہ پر سایہ کیا۔۔۔ان واقعات کو دیکھ کر اپنے کئے ہوئے ظلم پر لوگ پیشمان ہوئے اور صدق دل سے توبہ کرنے لگے ،
کرامات صوفیاء میں آپ کی توبہ کا واقعہ کچھ اس طرح بیان ہوا ہے کہ ایک دفعہ شیخ یوسف بن حسین کہتے ہیں کہ میں ایک روز شیخ ذوالنون کی مجلس میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ شیخ سالم مغربی آئے ہوئے ہیں اورانہوں نے ذوالنون سے کہا اے ابو فیض آپ کی توبہ کا واقعہ کیا ہے؟ شیخ ذوالنون نے فرمایا :
عجیب واقعہ ہے۔ تم اس کی تاب نہ لا سکو گے ؟شیخ سالم کہنے لگے ۔۔۔آپ کو اللہ کی قسم! مجھے ضرور بتائیے کہ آپ کی توبہ کا واقعہ کیا ہے"" شیخ ذوالنون مصری نے فرمایا: میں مصر سے نکل کر ایک بستی کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔میں سفر طے کر کے تھک گیا تو آرام کرنے کے لیے کچھ دیر سو گیا جب میں جاگا تو دیکھا کہ ایک اندھا پرندہ پیڑ سے نیچے کی جانب آکر بیٹھ گیا۔ اس وقت آپ کو خیال آیا کہ نہ جانے اس کو رزق کہاں سے مہیا ہوتا ہو گا؟ لیکن آپ نے دیکھا کہ اس پرندے نے اپنی چونچ سے زمین کریدی جس سے ایک سونے کی پیالی برآمد ہوئی۔ اس میں تل بھرے ہوئے تھے اور دوسری پیالی چاندی کی جو گلاب کے عرق سے لبریز تھی۔ چناچہ وہ پرندہ اسے کھا کر اور عرق پی کر درخت پرجا بیٹھا اور پیالیاں غائب ہو گئیں۔
یہ دیکھ کر آپ نے توکل پر کمر باندھ لی اور یقین کر لیا کہ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو کبھی تکلیف نہیں ہوتی۔اس واقعے کے بعد میں نے توبہ کر لی اور اللہ کے در سے چمٹا رہا ،حتی کہ اللہ نے مجھے قبول کر لیا"
کہا جاتا ہے۔۔ایک مرتبہ آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کشتی میں سوار دریائے نیل میں سفر کر رہے تھے سامنے سے ایک کشتی آرہی تھی جس میں لوگ گانا بجا کر خوب خوشیاں منارہے تھے اور ان لوگوں نے ایک ہنگامہ برپا کر رکھا تھا۔ آپ کے رفقاء نے آپ سے عرض کیا اے شیخ !دعا کریں اللہ تعالی ان سب کو غرق کر دے تا کہ ان کی نحوست سے مخلوق خدا پاک ہو ۔ حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ کھڑے ہو گئے اور ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگی کہ خدایا! جس طرح تو نے دنیا میں آج انہیں کو خوشی و شادمانی بخشی اسی طرح اس جہان میں بھی انہیں خوشی مسرت عطا فرما۔ آپ کے رفقاء اس دعا کو سن کر حیران رہ گئے جب وہ کشتی آپ کے سامنے ہوئی اور لوگوں کی نظریں حضرت ذوالنون مصری یہ پر پڑیں تو رو کر معذرت کرنے لگے اور اپنے آلات موسیقی کو توڑ کر دریا میں پھینک دیئے اور تائب ہو کر حق کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ حضرت ذوالنون مصری نے اپنے رفقاء سے فرمایا اس جہان کی خوشی و مسرت اس جہان میں توبہ کرنے سے حاصل ہوتی ہے ۔ دیکھ لو سب کی مرادیں حاصل ہو گئیں۔۔۔ تمہاری بھی اور ان کی بھی اور کسی کو کوئی رنج و تکلیف بھی نہ پہنچی
آپ نے کبھی کسی کو بد دعا نہیں فرمائی بلکہ ہر بار یہی دعا کی کہ خدایا میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ نادان ہیں۔۔۔
حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ نے ایک واقعہ اپنے رشد و ہدایت کے بارے میں خود بیان فرمایا ہے کہ میں بیت المقدس سے مصر کی طرف آرہا تھا مجھے ایک شخص آتا ہوا دکھائی دیا میں نے دل میں یہ خیال کیا کہ اس سے کچھ پوچھنا چاہیے جب قریب آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ کبڑی سی بوڑھی عورت ہے پشم کا جبہ پہنے اور ہاتھ میں عصا اورلوٹا لیے ہوئے تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کہاں سے آ رہی ہو ؟ اس نے کہا خدا کی طرف سے ۔ میں نے کہا اب کدھر کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا خدا کی طرف میرے پاس ایک دینار تھا اسے دینا چاہا اس نے ایک طمانچہ میرے رخسار پر مار کر کہا اے ذوالنون ! تو نے جو مجھے سمجھا ہے وہ تیری بےوقوفی ہے۔ میں خدا کے لیے ہی کام کرتی ہوں اس کی عبادت کرتی ہوں اور اسی سے مانگتی ہوں کسی دوسرے سے کچھ نہیں لیتی یہ کہا اور آگے بڑھ گئی ۔۔
اس واقعہ میں ایک باریک نکتہ کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ اس بوڑھی نے کہا میں خدا کے لیے ہی کام کرتی ہوں جو صدق و محبت کی دلیل ہے۔۔۔ کیونکہ لوگوں کا عمل دو طرح کا ہوتا ہے ، ایک یہ کہ لوگ کوئی عمل کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ کی خاطر کر رہے ہیں لیکن در حقیقت وہ یہ کام اپنے لیے کر رہے ہوتے ہیں اگرچہ بہ ظاہراس میں ان کی نفسانی خواہش نہ ہو۔۔ تاہم اگلے جہان میں ثواب کی امید تو ان کے دل میں یقینا موجود ہوتی ہے دوسرے یہ کہ آخرت کے عذاب و ثواب اور اس دنیا کے ریا و دکھاوے کا قطعاً کوئی خیال نہ ہو جو کام بھی کیا جائے محض اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تعظیم اور بجا آوری کے خیال سے کیا جائے اور صرف اللہ تعالیٰ کی محبت یہ کام کرار ہی ہو.اس فرمان کی تعمیل میں ذاتی خواہش کا قطعاً دخل نہ ہو ۔۔
شیخ ذوالنون اکثر فرمایا کرتے تھے:نجات کا مدار چار چیزوں پر ہے: اللہ جلیل سے محبت ،قلیل دنیا سے نفرت ، قرآن مجید کی اتباع اور حالت کیتبدیلی کا ڈر ( کہ کہیں ایمان کی دولت ہاتھ سے نہ جاتی رہے )
شیخ ذوالنون کا فرمان ہے:جب معدہ کھانے سے پر ہو تو پھر اس میں دانائی وحکمت کی بات جگہ نہیں پکڑتی ۔"
شیخ ذوالنون سے توبہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ۔ عوام کی توبہ گناہوں سے ہوتی ہے اور خواص کی توبہ غفلت سے ہوتی ہے
شیخ مصری سے کمینے آدمی کے متعلق سوال کیاگیا توآپ نے فرمایا حقیقی کمینہ کنجوس وہ شخص ہے جو اللہ تک پہنچنے کا طریقہ نہ جانتا ہوں اور نہ ہی جانے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔۔ آپ 859ء : 245ھ میں قاہرہ کے قریب خبیرہ کے مقام پر انتقال کیا اور وہیں مدفون ہوئے۔

Comments
Post a Comment