پیدائشی ولی: حضرت امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ


 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ولی اور روحانی بزرگ کو خاص مخلوق سے ہیں، اس لیے ان کی عزت کرتے ہیں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے ان کے آستانوں پر حاضر ہوتے ہیں۔ لوگ یہ مانتے ہیں کہ یہ اللہ کے دوست ہیں، اور اللہ اپنے دوستوں کی دعائیں جلد قبول کرتا ہے۔یہ بات درست ہے، لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ ولی اللہ کے قریب کیسے پہنچے۔ ان کی زندگی کے راستے اور تعلیمات کو جاننا ضروری ہے تاکہ ہم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر اللہ کے قریب ہو سکیں اور اس کے دوست بن سکیں. ہم آپ کوحضرت سید خواجہ شمس الدین امیر کلال سوخاری رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں بتائیں گے..حضرت سید خواجہ شمس الدین امیر کلال سوخاری رحمۃ اللہ علیہ ایک بڑے بزرگ شخصیت ہیں۔ آپ سید ہیں اور آپ حضرت بابا محمد سماسی قدس سرہ کے مرید و خلیفہ تھے ۔ آپ سوخار نامی گاؤں میں پیدا ہوئے، جو بخارا کے قریب ہے۔ آپ کوزہ گری کا کام کرتے تھے، اور فارسی میں کوزہ گر کو "کلال" کہتے ہیں، اس لیے آپ کا لقب "امیر کلال" رکھا گیا۔۔حضرت سید خواجہ شمس الدین امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ پیدائشی ولی تھے اور شریعت، طریقت، حقیقت، اور معرفت کے علوم میں بے مثال تھے۔ آپ کی والدہ فرماتی ہیں کہ جب آپ ان کے پیٹ میں تھے، اگر وہ غلط یا مشتبہ کھانا کھا لیتیں تو انہیں شدید درد ہوتا تھا، یہاں تک کہ وہ وہ کھانا باہر نکال دیتیں۔ بار بار ایسا ہونے پر انہیں اندازہ ہوا کہ یہ درد آپ کی وجہ سے ہے، تب وہ کھانے میں بہت احتیاط کرنے لگیں۔آپ جوانی میں اکثر کشتی لڑتے تھے اور تماشائیوں کا بڑا مجمع لگتا تھا۔ ایک دن حضرت خواجہ محمد بابا سماسی رحمۃ اللہ علیہ کا گزر وہاں سے ہوا، وہ رک کر آپ کو دیکھنے لگے۔ ان کے ساتھیوں نے حیرت سے پوچھا کہ آپ اس طرح کی دنیاوی سرگرمیوں میں کیوں دلچسپی لے رہے ہیں؟ حضرت بابا سماسی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں اس مجمع میں ایک نوجوان کو دیکھ رہا ہوں جس کی صحبت سے بہت سے لوگ روحانی کمال حاصل کریں گے، اور میں چاہتا ہوں کہ اسے اپنی روحانی تربیت میں لے لوں۔جب حضرت بابا سماسی رحمۃ اللہ علیہ وہاں سے روانہ ہوئے تو آپ کی نظر ان پر پڑی اور ان کی روحانی کشش نے آپ کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ آپ ان کے پیچھے پیچھے چل کر ان کی خانقاہ تک پہنچے۔ حضرت بابا سماسی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اپنی روحانی تربیت میں لے لیا اور طریقہ نقشبندیہ کی تعلیم دی۔ آپ نے تقریباً بیس(20) سال ان کی خدمت کی اور ان کی صحبت میں رہ کر ظاہری اور باطنی علوم میں کمال حاصل کیا۔ بعد میں آپ اولیائے کرام اور مشایخ کی صف میں نمایاں ہوئے۔کہتے ہیں ایک دفعہ جب آپ کشتی لڑ رہے تھے، ایک شخص نے دل میں سوچا کہ یہ مناسب نہیں کہ ایک سید زادہ اس طرح کی سرگرمیوں میں مشغول ہو۔ اس کے بعد وہ شخص سو گیا اور خواب میں دیکھا کہ قیامت کا دن ہے اور وہ کیچڑ میں پھنس گیا ہے۔ وہاں سے نکلنے کی کوئی راہ نہ تھی، تب آپ خواب میں آئے اور اسے نکال دیا۔ جب وہ بیدار ہوا تو آپ نے کشتی کے دوران اسے مخاطب کیا اور فرمایا کہ میں اسی دن کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کر رہا ہوں۔۔۔حضرت خواجہ محمد بابا سماسی رحمۃ اللہ علیہ کے تین خاص خلیفہ تھے جو علم و روحانیت میں کمال رکھتے تھے۔ ان میں حضرت امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ سب سے نمایاں تھے۔ ان کے علاوہ دو اور خلیفہ بھی تھے:خواجہ محمود سماسی۔مولانا علی دانش مند: حضرت امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیم و تربیت کی، جیسا کہ حضرت پیر دستگیر رحمتہ اللہ علیہ کی وصیت تھی۔آپ کے چار صاحبزادے اور چار خلیفہ تھے، اور سب اعلیٰ درجے کے بزرگ اور روحانی مقام کے حامل تھے۔ آپ نے اپنے ہر بیٹے کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک خلیفہ کے سپرد کیا:حضرت سید امیر برہان کو حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کیا۔حضرت سید امیر حمزہ کو حضرت مولانا عارف دیک کرانی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے کیا۔۔حضرت سید امیر شاہ کو حضرت شیخ یاد کار کسرونی رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کیا۔حضرت سید امیر عمر کو حضرت شیخ جمال الدین دہستانی رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کیا۔یہ سب صاحبان علم و روحانیت کی تربیت میں رہ کر کمال حاصل کرنے والے تھے۔

حضرت امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ کی وفات جمعرات کے دن18 جمادی الاول 772 ہجری کو نماز فجر کے وقت ہوئی۔ آپ کا مزار قصبہ سوخار میں واقع ہے، جہاں لوگ زیارت کے لیے آتے ہیں۔



Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam