Hazrat Junaid Baghdadi||حضرت جنید بغدادی ؒ


 Hazrat Junaid Baghdadi||حضرت جنید بغدادی ؒ

آپ کے القابات میں "سید الطائفہ" (اولیاء کے سردار)، "طاؤس العلماء" (علماء کے درمیان خوبصورت مثل طاؤس)، "قوار بری"، "زجاج" اور "خزاز" شامل ہیں۔

آپ کو "زجاج" اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ کے والد محمد بن جنید شیشے کی تجارت کرتے تھے، اور "خزاز" اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ چمڑے کا کام بھی کرتے تھے۔ آپ کا اصل وطن نہاوند تھا، لیکن آپ بغداد میں پیدا ہوئے۔

آپ حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کے بھانجے اور مرید تھے، اور حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت سے بھی فیض یاب ہوئے۔

آپ کی وفات رجب 297 ہجری (یا بعض روایات کے مطابق302 ہجری) بروز جمعہ ہوئی۔ آپ کا مزار بغداد میں ہے ۔حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ بچپن ہی سے بہت ذہین، با ادب، اور صاحب فکر تھے۔ ایک دن جب آپ مدرسے سے گھر آئے تو دیکھا کہ آپ کے والد رو رہے ہیں۔ آپ نے وجہ پوچھی تو والد نے بتایا کہ میں نے زکوٰۃ کے پیسے آپ کے ماموں حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھیجے تھے، لیکن انہوں نے قبول نہیں کیے۔ میں اس لیے رو رہا ہوں کہ میں نے اپنی پوری زندگی صرف پانچ درہم کی کمائی میں گزار دی، اور یہ بھی اللہ کے ولی کے لیے قابل قبول نہ ہوئی۔

حضرت جنید نے کہا: یہ درہم مجھے دیجیے، میں انہیں لے کر جاتا ہوں۔ آپ درہم لے کر حضرت سری سقطی کے گھر گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ انہوں نے پوچھا: کون ہے؟ آپ نے جواب دیا: میں جنید ہوں، دروازہ کھولیے اور یہ زکوٰۃ قبول کیجیے۔

حضرت سری سقطی نے فرمایا: میں یہ زکوٰۃ قبول نہیں کروں گا۔ حضرت جنید نے کہا: اے ماموں صاحب! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، جس نے آپ پر فضل کیا اور میرے والد کے ساتھ عدل کیا،کہ آپ یہ زکوٰۃ قبول کریں۔حضرت سری سقطی نے پوچھا: میرے ساتھ کیا فضل اور تیرے والد کے ساتھ کیا عدل کیا؟ حضرت جنید نے جواب دیا: اللہ نے آپ پر یہ فضل کیا کہ آپ کو درویشی عطا کی، اور میرے والد کے ساتھ یہ عدل کیا کہ انہیں دنیا کے کاموں میں لگا دیا۔ آپ چاہیں یا نہ چاہیں، میرے والد چاہیں یا نہ چاہیں، یہ زکوٰۃ حق دار تک پہنچنی چاہیے۔یہ سن کر حضرت سری سقطی بہت خوش ہوئے اور فرمایا: اے میرے بیٹے، زکوٰۃ لینے سے پہلے میں نے تجھے دل سے قبول کر لیا۔ پھر انہوں نے دروازہ کھولا، زکوٰۃ کے پیسے لیے اور آپ کو اپنے دل میں خاص مقام دے دیا۔ایک دن پیر بھائیوں نے حضرت جنید بغدادی سے درخواست کی کہ ہمیں وعظ سنائیں تاکہ ہمارے دل سکون پائیں۔ حضرت جنید نے انکار کرتے ہوئے فرمایا: "جب تک میرے شیخ حضرت سری سقطی زندہ ہیں، میں کچھ نہیں کہوں گا، کیونکہ میں ان کے بغیر کچھ نہیں کہہ سکتا۔"

ایک رات حضرت جنید کو خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جنید! لوگوں کو وعظ کیا کرو کیونکہ تمہارے بیان سے لوگوں کے دلوں کو سکون ملے گا، اور تمہارے بیان سے اللہ تعالیٰ کسی عالم کی نجات بھی کر دے گا۔"جب حضرت جنید بیدار ہوئے تو ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ شاید اب میں اپنے مرشد حضرت سری سقطی سے زیادہ بلند مقام پر پہنچ چکا ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وعظ دینے کا حکم دیا ہے۔

صبح ہونے پر، حضرت سری سقطی نے حضرت جنید کو ایک پیغام بھیجا۔ انہوں نے کہا: "تم نے مریدوں کی درخواست رد کر دی، بغداد کے مشائخ کی سفارش بھی ٹھکرا دی، اور میری درخواست کو بھی نہیں سنا۔ لیکن اب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم آ چکا ہے، تو تمہیں وعظ ضرور کرنا ہوگا۔"حضرت جنید بغدادی نے یہ پیغام سن کر جواب دیا: "میرے دل میں یہ خیال آیا تھا کہ شاید میرا مرتبہ حضرت سری سقطی سے بلند ہو گیا ہے، لیکن اب مجھے یہ بات پوری طرح سمجھ آ گئی ہے کہ حضرت سری سقطی میرے مرشد کامل ہیں، اور ان کا درجہ میرے درجہ سے ہمیشہ بلند رہے گا۔"۔

ایک مرتبہ خلیفہ بغداد نے ردیم نامی شخص کو بے ادب کہا۔ اس پر ردیم نے جواب دیا کہ میں بے ادب کیسے ہو سکتا ہوں؟ میرا آدھا دن تو ہمیشہ حضرت جنید بغدادی کی صحبت (ساتھ) میں گزرتا ہے، اور ان کی صحبت میں رہ کر بے ادبی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا....حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اخلاص (خلوصِ نیت) ایک حجام سے سیکھا۔ ایک بار مکہ مکرمہ میں ایک حجام (نائی) ایک شخص کے بال تراش رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا: "اللہ کی راہ میں میرے بال درست کر دو۔"یہ سن کر حجام نے اس شخص سے کہا جس کی وہ حجامت کر رہا تھا: "ذرا تم ایک طرف ہو جاؤ۔ جب اللہ کا نام آ گیا تو سب سے پہلے اللہ کا کام کرنا چاہیے۔"پھر اس نے مجھے بٹھایا، میرے سر کو بوسہ دیا، میری حجامت کی، اور آخر میں ایک کاغذ دیا جس میں چاندی کے کچھ سکے تھے۔ اس نے کہا: "یہ اپنی ضروریات پر خرچ کر لو۔"اس دن سے میں نے نیت کی کہ جو بھی اللہ کی راہ میں مجھے ملے گا، سب سے پہلے اسی حجام کو دوں گا۔ کچھ عرصے بعد بصرہ سے اشرفیوں کی ایک تھیلی میرے پاس آئی۔ میں وہ تھیلی لے کر اس حجام کے پاس گیا اور اسے اپنی نیت اور عہد کے بارے میں بتایا۔یہ سن کر حجام نے کہا: "اے اللہ کے بندے! تمہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ کے نام پر کیے گئے کام کا معاوضہ مجھے دینا چاہتے ہو؟"

حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک بار میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں ابلیس (شیطان) کو دیکھوں۔ ایک دن میں مسجد کے دروازے پر کھڑا تھا کہ ایک بوڑھا آدمی دور سے میری طرف دیکھتا ہوا آیا۔ جب میری نظر اس پر پڑی تو میرے دل میں ایک عجیب سی وحشت پیدا ہوئی۔

جب وہ قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا: "اے بوڑھے، تُو کون ہے؟ تیری نحوست اور ہیبت سے میرا دل بے چین ہو رہا ہے۔" اس نے کہا: "میں وہی ہوں جسے دیکھنے کی تم نے خواہش کی تھی، میں ابلیس ہوں۔"

میں نے اس سے پوچھا: "وہ کون سی چیز تھی جس کی وجہ سے تُو نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا؟" اس نے جواب دیا: "اے جنید، کیا تم یہ چاہتے تھے کہ میں غیر خدا کو سجدہ کرتا؟"حضرت جنید فرماتے ہیں: "اس کی بات سن کر میں حیران رہ گیا، اور اس کے الفاظ کا میرے دل پر اثر ہونے لگا۔ لیکن اسی وقت مجھے اللہ کی طرف سے الہام ہوا: 'اے جنید، اسے کہہ دو کہ یہ جھوٹ بولتا ہے۔ اگر یہ واقعی بندہ ہوتا تو اللہ کے حکم سے باہر نہ نکلتا اور اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کے قریب نہ جاتا۔'"

شیطان نے میرے دل کی یہ آواز سن لی، چیخ مار کر بولا: "اللہ کی قسم، تو نے مجھے جلا کر رکھ دیا!" اور یہ کہہ کر نظروں سے غائب ہو گیا۔حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مرید کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ کسی بلند مقام پر پہنچ چکا ہے اور اس کی روحانی ترقی میں حضرت جنید کی رہنمائی کی اب ضرورت نہیں۔ اس نے حضرت جنید سے دل میں کچھ ناراضگی اور بے رخی اختیار کی۔ایک دن وہ حضرت جنید کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ یہ دیکھ سکے کہ ان کے دل کی یہ حالت حضرت جنید پر ظاہر ہوئی ہے یا نہیں۔ جب وہ آیا تو حضرت جنید اپنی فراست (روحانی بصیرت) سے اس کی کیفیت کو جان چکے تھے۔ مرید نے ایک سوال کیا تو حضرت جنید نے فرمایا: "تمہیں جواب الفاظ میں چاہیے یا حقیقت کے معنی میں؟"مرید نے کہا: "دونوں طرح جواب دیجیے۔"

حضرت جنید نے فرمایا:

عبارتی جواب یہ ہے: "اگر تم میرا تجربہ کرنے کے بجائے خود کو پرکھ لیتے تو میری آزمائش کی ضرورت نہ پڑتی اور یہاں نہ آتے۔"

معنوی جواب یہ ہے: "میں نے تمہیں ولایت (روحانی مقام) کے منصب سے معزول کر دیا۔"یہ سن کر مرید کا چہرہ سیاہ پڑ گیا اور وہ چیخنے لگا: "حضور! میرے دل کا سکون اور روحانی یقین ختم ہو گیا ہے!" وہ توبہ کرنے لگا اور اپنی پہلی گستاخیوں سے باز آنے کا عہد کیا۔حضرت جنید نے فرمایا: "کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ کے ولی رازوں کے امین ہوتے ہیں؟ تم میں ان کی ایک معمولی آزمائش کو سہنے کی طاقت نہیں ہے۔"پھر حضرت جنید نے اس پر ایک پھونک ماری اور وہ دوبارہ اپنے پہلے روحانی مقام پر واپس آگیا۔ اس دن سے اس نے اللہ کے اولیاء کے معاملات میں مداخلت سے توبہ کی اور پختہ عہد کیا کہ آئندہ ایسی گستاخی نہیں کرے گا۔ایک دن حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ وعظ فرما رہے تھے کہ ایک نوجوان، جو کافر تھا مگر مسلمانوں جیسا لباس پہنے ہوئے تھا، مجلس میں آیا اور ایک کنارے کھڑا ہو گیا۔ اس نے بلند آواز سے سوال کیا:"اے شیخ! رسولِ کریم ﷺ کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے کہ 'مومن کی فراست سے ڈرو، کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے؟'"حضرت جنید نے اس کا سوال سن کر کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیا۔ پھر سر اٹھا کر فرمایا:"اے نوجوان! اسلام قبول کر لو، تمہارے ایمان لانے کا وقت آ چکا ہے۔"امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں یہ حضرت جنید کی ایک کرامت تھی، لیکن حقیقت میں یہ دو کرامتیں تھیں ۔پہلا حضرت جنید کا نوجوان کے کفر پر مطلع ہونا دوسرا یہ جان لینا کہ وہ فوراً اسلام قبول کر لے گا۔

ایک مرتبہ حضرت جنید بغدادی آشوبِ چشم (آنکھوں کی بیماری) میں مبتلا ہوئے۔ ایک آتش پرست (مجوسی) طبیب آیا اور علاج کرتے ہوئے کہا کہ آنکھوں پر پانی نہ لگائیں۔ حضرت جنید نے فرمایا: "وضو میرے لیے ضروری ہے، اسے نہیں چھوڑ سکتا۔"طبیب کے جانے کے بعد آپ نے وضو کیا، نمازِ عشاء ادا کی، اور سو گئے۔ صبح جب بیدار ہوئے تو آنکھوں کا درد بالکل ختم ہو چکا تھا۔ آپ نے سنا:

"چونکہ تم نے ہماری عبادت کے لیے اپنی آنکھوں کی پرواہ نہیں کی، اس لیے ہم نے تمہاری تکلیف ختم کر دی۔"جب طبیب نے پوچھا کہ ایک ہی رات میں آپ کی آنکھیں کیسے ٹھیک ہو گئیں؟ تو آپ نے فرمایا:"وضو کرنے کی برکت سے۔"یہ سن کر طبیب نے کہا: "درحقیقت میں مریض تھا اور آپ طبیب ہیں۔" یہ کہہ کر وہ مسلمان ہو گیا۔جب آپ دمِ مرگ پر تھے، تو فرمایا کہ مجھے وضو کرواؤ۔ وضو کے دوران، اُن کی انگلیوں میں خلال کرنا بھول گئے، تو انہوں نے یاد دلایا اور خلال کیا گیا۔ وضو کے بعد وہ سجدے میں گر کر زار و قطار رونے لگے۔ لوگوں نے پوچھا: "آپ تو بہت عبادت گزار ہیں، پھر کیوں رو رہے ہیں؟"انہوں نے جواب دیا: "اس وقت سے زیادہ کبھی محتاج نہیں رہا۔"پھر قرآنِ پاک کی تلاوت شروع کی اور فرمایا: "اس وقت قرآن مجید ہی میرا سب سے بڑا ساتھی ہے۔ اپنی ساری عمر کی عبادت کو یوں محسوس کر رہا ہوں جیسے ہوا میں معلق ہے، جسے تیز ہوا ہلا رہی ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ ہوا وصال (اللہ سے ملاقات) کی ہے یا فراق کی۔ سامنے فرشتۂ اجل اور پل صراط ہے، اور میں ایک عادل قاضی کے فیصلے کا انتظار کر رہا ہوں کہ میرا انجام کیا ہوگا۔"

اسی حالت میں انہوں نے سورۃ البقرہ کی 70 آیات تلاوت کیں ۔ عالم سکرات (موت کے قریب) جب لوگوں نے کہا کہ "اللہ اللہ کیجئے،" تو فرمایا: "میں اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوں۔" پھر انگلیوں پر وظیفہ پڑھنے لگے، اور جب دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی پر پہنچے، تو "بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" پڑھ کر انگلی آسمان کی طرف اٹھائی، آنکھیں بند کیں، اور روح پرواز کر گئی۔بعد میں کسی بزرگ نے خواب میں اُن سے پوچھا کہ اللہ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟انہوں نے فرمایا: "محض اپنے کرم سے بخش دیا، لیکن میری عمر بھر کی کوئی عبادت کام نہ آئی سوائے اُن دو رکعت نماز کے جو میں رات کو پڑھا کرتا تھا۔"ان کے مزار پر حضرت شیخ شبلیؒ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا:

"خدا رسیدہ لوگوں کی زندگی اور موت برابر ہوتی ہے۔۔اِس لئے اِس مزار پر کسی مسئلہ کا جواب دینے میں ندامت محسوس کرتا ہوں کیونکہ مرنے کے بعد بھی آپ سے اُتنی حیاء رکھتا ہوں جتنی حیات میں تھی۔"حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللّٰہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:

’’ کہ صوفی زمین کی مانند ہوتا ہے کہ جب پلیدی اس پر ڈالی جاتی ہےتو وہ سرسبز ہوکرنکلتی ہے۔ فرمایا صوفی وہ ہے جس کا دل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح دنیا کی دوستی سے پاک ہو اور فرمان الٰہی بجالانے والا ہو، اس کی تسلیم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تسلیم کی طرح ہو اور اس کا غم و اندوہ حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح ہو اور اس کا صبر حضرت ایوب علیہ السلام کے مانند ہو اس کا ذوق و شوق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہو اور مناجات میں اس کا اخلاص حضور سرورِ کائناتؐ کی طرح ہو۔




Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam