حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی حیرت انگیز زندگی | Life of Salman Al-Farsi (RA)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
۔۔سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فارسی ایرانی نسل سے تھے، اس
وجہ سے آپ کو سلمان فارسی کہا جاتا ہے۔ آپ کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ آپ نے ہجرت کے پہلے سال جمادی الثانی کے مہینے میں حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے اور ہمیشہ آپ ﷺ کی خدمت میں رہے۔آپ نے باطنی تعلیم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے حاصل کی۔ آپ بڑی عمر پاکر 33 ہجری میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مدائن شہر میں وفات پا گئے۔ آپ کی عمر کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ نے ہزار سال، کچھ نے پانچ سو سال، کچھ نے تین سو پچاس سال، اور کچھ نے دو سو پچاس سال بتائی ہے، لیکن آخری قول (دو سو پچاس سال) پر زیادہ لوگوں کا اتفاق ہے۔ آپ کا مزار مدائن شہر میں موجود ہے۔آپ رضی اللہ عنہ پہلے زرتشتی (مجوسی) مذہب کے ماننے والے تھے، لیکن حق کی تلاش میں اپنے وطن فارس سے نکلے۔ آپ نے اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر عیسائیت قبول کی اور بالآخر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔امام ابوالقاسم اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب قرآن کا زیادہ حصہ نازل ہو گیا تو حضرت محمد ﷺ نے قرآن مجید کو مختلف جگہوں پر بھیجا۔ جب قرآن فارس (ایران) پہنچا تو فارسی لوگوں نے اسے اپنے سینے سے لگایا اور اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے سلمان فارسی، دلدل (ایک خاص جانور)، اور ماریہ قبطیہ کے ساتھ بہت سے تحائف حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجے۔
جب قرآن ترکوں کے پاس پہنچا تو انہوں نے اسے تخت پر رکھا اور حضور ﷺ کی خدمت میں تحائف بھیجے۔ جب یہ تمام واقعات آپ ﷺ کے سامنے بیان کیے گئے تو آپ نے فرمایا: "فارسی لوگ دل کے سچے اور صاف نیت والے ہوں گے، اور قیامت تک میرے خاندان کی محبت ان کے دلوں سے نہیں نکلے گی۔ ترک لوگ سردار بنیں گے۔"
حضرت سلمان فارسیؓ کی زندگی حق کی تلاش اور جستجو کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ ان کے قبولِ اسلام کا واقعہ بہت ہی دلچسپ اور سبق آموز ہے۔ آپ پہلے مجوسی مذہب سے تعلق رکھتے تھے، لیکن آپ کے دل میں ہمیشہ یہ سوال رہتا تھا کہ جس آگ کو ہم خود جلاتے ہیں، وہ ہمارا خدا کیسے ہو سکتی ہے؟آپ کے والد ایک بڑے آتش کدے کے نگران تھے۔ ایک دن انہوں نے آپ سے کہا کہ آج کھیتوں کی دیکھ بھال تمہیں کرنی ہوگی۔ حضرت سلمانؓ کھیتوں کی طرف روانہ ہوئے، لیکن راستے میں آپ کی نظر ایک گرجا گھر پر پڑی۔ وہاں پہنچ کر آپ عیسائیوں کی عبادت سے بہت متاثر ہوئے۔ اسی دن آپ نے اپنا پرانا مذہب چھوڑ کر عیسائیت قبول کرلی۔جب آپ کے والد کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے آپ کو گھر میں قید کر دیا، آپ کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال دیں۔ لیکن حضرت سلمانؓ نے کسی طرح وہاں سے نکلنے کا راستہ نکال لیا اور ایک قافلے کے ساتھ شام پہنچ گئے۔حضرت سلمان فارسیؓ حق کی تلاش میں مسلسل سفر کرتے رہے۔ شام سے موصل (عراق)، وہاں سے نصیبین (ترکی)، اور پھر عموریہ پہنچے۔ عموریہ میں آپؓ ایک بڑے پادری کی خدمت میں رہنے لگے۔ جب اس پادری کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس نے حضرت سلمانؓ کو بلایا اور کہا:"میرے بیٹے! میں اب دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں۔ نبی آخرالزمان کے آنے کا وقت قریب ہے۔ وہ صحرائے عرب سے دینِ حنیف کو زندہ کرنے کے لیے اٹھیں گے اور ایسی زمین کی طرف ہجرت کریں گے جہاں کھجوروں کی کثرت ہوگی۔ ان کے دونوں شانوں کے درمیان مہرِ نبوت ہوگی۔ وہ صدقہ قبول نہیں کریں گے لیکن ہدیہ لے لیں گے۔ جب تم ان کا زمانہ پاؤ تو ان کی خدمت میں ضرور حاضر ہونا۔"پادری کے انتقال کے بعد حضرت سلمانؓ حجاز جانے والے کسی قافلے کی تلاش میں لگ گئے۔ بالآخر، قبیلہ بنو کلب کا ایک قافلہ عموریہ سے گزرا، اور آپؓ اس قافلے کے ساتھ روانہ ہوگئے۔
راستے میں قافلے والوں کی نیت خراب ہوگئی۔ جب یہ قافلہ وادی القریٰ پہنچا تو انہوں نے حضرت سلمان فارسیؓ کو یہودیوں کے ہاتھ بیچ دیا۔ آپؓ نے اس کو اپنی قسمت سمجھ کر قبول کر لیا، لیکن حق کی تلاش کی جو آگ آپ کے دل میں تھی، وہ پھر بھی روشن رہی۔
ایک دن، اس یہودی کا ایک رشتہ دار، جو یثرب (مدینہ) میں رہتا تھا، اس سے ملنے آیا۔ اسے ایک غلام کی ضرورت تھی، تو اس نے حضرت سلمانؓ کو خرید لیا اور یثرب لے آیا۔ یثرب پہنچ کر جب آپؓ نے کھجوروں کے درختوں کے جھنڈ دیکھے تو دل میں یقین پیدا ہوگیا کہ اب آپ کی تلاش ختم ہونے کے قریب ہے۔
ایک دن حضرت سلمان فارسیؓ ایک درخت پر چڑھ کر کام کر رہے تھے کہ ایک یہودی بھاگتا ہوا آیا اور غصے میں کہنے لگا: "خدا اوس و خزرج کو برباد کرے! سب قبا میں ایک شخص کے پاس جا رہے ہیں جو مکہ سے آیا ہے اور خود کو نبی کہتا ہے۔"
یہ سن کر حضرت سلمانؓ بے چین ہو کر فوراً درخت سے نیچے اترے اور اس شخص سے پوچھنے لگے: "تم نے کیا کہا؟ دوبارہ بتاؤ۔" یہ دیکھ کر ان کے مالک کو غصہ آیا، اس نے انہیں ایک تھپڑ مارا اور کہا: "اپنا کام کرو۔" حضرت سلمانؓ اس وقت خاموش ہوگئے۔
کچھ دن بعد، آپؓ کچھ کھانے کی چیزیں لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور کہا کہ یہ صدقہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ چیزیں خود نہیں کھائیں بلکہ صحابہؓ میں تقسیم کر دیں۔ اگلے دن حضرت سلمانؓ دوبارہ کھانے کی چیزیں لے کر آئے اور اس بار انہیں بطور ہدیہ پیش کیا۔ اس بار رسول اللہ ﷺ نے خود بھی وہ چیزیں کھائیں اور صحابہؓ میں بھی تقسیم کر دیں۔
یہ دیکھ کر حضرت سلمانؓ بہت خوش ہوئے کیونکہ نبی آخرالزمان کی دو نشانیاں پوری ہوگئی تھیں۔ اب صرف مہرِ نبوت دیکھنا باقی تھا۔ کچھ دن بعد آپؓ کو خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ ایک جنازے کے ساتھ بقیع غرقد میں تشریف لے گئے ہیں۔ حضرت سلمانؓ بھی وہاں پہنچے، نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا اور پیچھے کھڑے ہوگئے تاکہ موقع ملے تو مہرِ نبوت دیکھ سکیں۔
نبی اکرم ﷺ نے حضرت سلمان فارسیؓ کی حالت کو سمجھ لیا اور اپنی پشت سے کپڑا ہٹا دیا۔ حضرت سلمانؓ نے مہرِ نبوت کو دیکھا، کانپتے ہونٹوں سے اسے بوسہ دیا، اور کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت سلمانؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں رہنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی یہودی غلامی ختم کروائی۔ اس کے بعد حضرت سلمانؓ ہر وقت نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہتے۔ وہ بہت عظیم صحابی تھے، اور ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ غزوہ احزاب (جنگ خندق) میں ان کے مشورے پر خندق کھودی گئی اور دفاعی جنگ لڑی گئی۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جنگ خندق اور اس کے بعد غزوات میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہے آپ اصحاب صفہ میں سے ہیں اور ان اصحاب میں سے ایک صحابی ہیں جن کے لیے جنت مشتاق ہے ۔امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو مدائن کا حاکم بنایا اور پانچ ہزار درہم سالانہ بیت المال سے آپ کے لیے مقرر کر دیئے تھے ۔ آپ یہ رقم لے کر فقیروں میں تقسیم کر دیتے تھے اور خود زنبیل بنا کر اپنا خرچ چلاتے ۔ آپ کے پاس اونٹ کے بالوں کا بنا ہوا ایک کمبل تھا۔ آپ دن بھر اسے پہنے رہتے اور رات کو اسے اوڑھ لیتے تھے۔ آپ سارا سال جہاد کرتے اور بکریوں کے بالوں کو صاف کر کے اس کی رسیاں بنتے اور ان کی کھالوں کے تھیلے بناتے۔ اگر جنگ میں کسی کو رسی یا تھیلے کی ضرورت ہوتی تو اسے دے دیتے تھے ۔کہتے ہیں کہ
ایک دن حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بازار جا رہے تھے۔ ایک شخص نے بہت سے سیب خریدے اور کسی مزدور کو تلاش کر رہا تھا جو انہیں اس کے گھر تک پہنچا دے۔ اس دوران اس نے آپ کو کمبل اوڑھے دیکھا اور سمجھا کہ آپ مزدور ہیں۔ اس نے آپ کو آواز دی کہ سیب اس کے گھر تک پہنچا دیں۔ آپ نے بغیر کچھ کہے سیب اٹھا لیے اور چل پڑے۔ راستے میں ایک شخص نے آپ کو پہچان لیا اور کہا: "اللہ امیر کو سلامت رکھے! آپ نے سیب کیوں اٹھا رکھے ہیں؟" وہ شخص سمجھ گیا کہ آپ مدائن کے امیر ہیں، اور فوراً آپ کے قدموں میں گر کر معافی مانگنے لگا۔ لیکن آپ نے فرمایا: "تم نے مجھے یہ کام کرنے کا کہا تھا، اب میں سیب تمہارے گھر تک پہنچائے بغیر واپس نہیں جاؤں گا۔"
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی کندہ کی ایک عورت سے نکاح کیا تھا، جن سے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ ان کی نسل اب بھی موجود ہے اور سب علم و کمال کے حامل ہیں۔
آپ کے وصال کے وقت بہت لوگ آپ کی عیادت کے لیے آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ آپ رانوں پر ہاتھ رکھے رو رہے ہیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: "میں موت کے خوف یا دنیا کی خواہش میں نہیں رو رہا، بلکہ رسول اکرم ﷺ نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ اگر قیامت کے دن مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو دنیا سے دُور رہنا اور دنیا سے ایسے جانا جیسے میں گیا تھا۔ اب میرے پاس کچھ مال موجود ہے، اور ڈر ہے کہ یہ وعدہ پورا نہ ہو۔"حالانکہ آپ کے گھر میں اس وقت صرف ایک نقارہ، ایک لوٹا، ایک پالان، ایک پوستین، اور ایک کمبل تھا۔
شواہد النبوت میں ہے کہ جب آپ کی وفات کا وقت قریب پہنچا تو آپ نے اپنی اہلیہ صاحبہ سے فرمایا کہ وہ تھوڑا سا مشک جو تمہارے پاس ہے اس کو پانی میں گھول کر میرے سر کے گرد چھڑک دو اس لیے کہ اب میرے پاس وہ قوم آئیں گے جو انس سے ہیں نہ جن سے۔ آپ کی اہلیہ صاحبہ کا بیان ہے کہ آپ نے جیسا فرمایا تھا میں نے اس کی تعمیل کی جیسے ہی کہ گھر سے باہر نکلتی تھی کہ یکایک گھر میں سے آواز آئی السلام عَلَيْكَ يَا وَلَى اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللہ یہ آواز سن کر میں گھر میں لوٹ آئی تو دیکھا کہ آپ کی روح پرواز کر چکی تھی اور آپ اپنے بستر پر ایسے سوئے تھے کہ خواب میں ہوں۔۔۔
روایت ہے کہ ایک شخص نے آپ کو گالیاں دی آپ نے کہا اگر قیامت کے دن میرے گناہوں کا پلڑا بھاری ہو گیا تو جو کچھ کہتا ہے میں اس سے بھی بدتر ہو اگر گناہوں کا پلہ ہلکا ہوگیا تو جو کچھ تو کہتا ہے مجھ کو اس سے کوئی ڈر اور خطرہ نہیں

Comments
Post a Comment