ایک شرابی باخدا کیسے بنا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔انسان کے اعمال اس کے ساتھ قبر میں جاتے ہیں۔ اگر اعمال نیک ہوں تو قبر روشن اور کشادہ ہو جاتی ہے، اور وہ اعمال اس شخص کو خوش رکھتے ہیں۔ لیکن اگر اعمال برے ہوں تو وہ قبر میں اندھیرا، تنگی، اور عذاب لے آتے ہیں۔ملک یمن کے شہروں میں بعض صالحین سے سنا ہے کہ فرماتے تھے کہ ایک میت کو دفن کر کے جب لوگ واپس آنے لگے تو قبر سے ایک بڑے دھماکے کی آواز آئی اور قبر میں سے ایک کالا کتا نکل بھاگا ایک بڑے صالح آدمی وہیں تھے انہوں نے اس کتے سے کہا کہ تیرا ناس ہو تو کون بلا ہے وہ بولا میں اس میت کا بد عمل (برا کام) ہوں انہوں نے پوچھا کہ یہ (جو آواز آئی تھی اس کی چوٹ تیرے لگی تھی یا میت کے کہا میرے ہی لگی تھی وجہ یہ ہوئی اس کے پاس سورہ یسں وغیرہ جن کا یہ شخص ورد رکھتا تھا آگئیں اور مجھے اس کے پاس نہ جانے دیا بلکہ مار کے نکال دیا :
روایت میں ہے کہ مالک بن دینار سے کسی نے ان کی توبہ کرنے کا سبب پوچھا فرمایا میں شرابی آدمی تھا ہر وقت شراب خواری (شراب پینا) میں ڈوبا رہتا تھا میں نے ایک بہت حسین خوبصورت لونڈی خریدی اور اس سے ایک میری بیٹی ہوئی مجھے اس سے بےحد محبت تھی۔ جس وقت وہ چلنے پھرنے لگے تو میرے دل میں اس کی محبت و الفت اور زیادہ ہو گئی اور اکثر یہ ہوتا کہ جب میں شراب لے کر بیٹھتا وہ میرے پاس آتی اور مجھ سے چھین کر میرے کپڑوں پر گر دیتی جب وہ پوری دو برس کی ہوئی تو اس کا انتقال ہو گیا مجھے اس کی رنج و صدمہ نے بالکل تباہ کردیا جب ماہ شعبان کا نصف گزرچکا تھا اتفاق سے جمعہ کی شب تھی میں شراب میں مست ہو کر سو رہا عشاء کی نماز بھی نہیں پڑھی تب میں نے خواب میں دیکھا کہ حشر برپا ہے اہل قبور قبروں سے نکل نکل کر آرہے ہیں میں بھی ان کے ساتھ ہوں مجھے اپنے پیچھے سے کچھ آہیٹ محسوس ہوئی میں نے پیچھا دیکھا تو ایک بہت بڑا کالا سانپ میری طرف منہ کھولے دوڑا ہوا آرہا ہے میں خوف کے مارے اس کے آگے بھاگا جا رہا ہوں رعب (ڈر) مجھ پر چھایا ہوا ہے میں ایک راستہ سے جو گزرا تو ایک بوڑھے آدمی سفید کپڑے پہنے اور خوشبو لگائے ہوئے ملے میں نے ان سے گریہ و زاری کی کہ مجھے اس سانپ سے بچالیں انہوں نے فرمایا میں ضعیف آدمی ہوں اور یہ مجھ سے زیادہ زور آور ہے اس لئے میں نہیں بچا سکتا لیکن تم جاؤ دوڑو شاید اللہ تعالیٰ تمہاری نجات کا کوئی سبب پیدا کر دے پھر میں اور بھی زیادہ بھاگا اور ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گیا وہاں سے دوزخ کے طبقے اور ان کی لپیٹیں نظر آنے لگیں میں اسی سانپ کے اندیشہ سے جو میرے پیچھے آرہا تھا قریب تھا کہ ان کے اندر جاپڑوں اتنے میں غیب سے مجھے آواز ائی کہ پیچھے ہٹ تو دوزخی نہیں ہے اس کے کہنے پر مجھے اطمینان ہوا اور میں پیچھے ہٹا تو وہ سانپ بھی میرے پیچھے ہی تھا ۔ اس وقت میں پھر ان بوڑھے صاحب کے پاس آیا اور میں نے کہا کہ آپ مجھے اس سانپ سے بچالیں یہ سن کر وہ رونے لگے اور فرمایا کہ میں خود کمزور اور ناتواں (بے طاقت ) ہوں لیکن تم اس پہاڑ پر جاؤ یہاں مسلمانوں کی امانتیں جمع ہیں اگر تمہاری بھی کوئی شے امانت رکھی ہوگی تو اس سے امداد مل جائے گی میں نے دیکھا تو وہ گول پہاڑ تھا بہت سے دروازے اس میں بنے ہوئے ان پر پردے پڑے ہوئے اور ہر دروازہ کی چوکھٹیں سونے کی اور یا قوت اور موتی جڑے ہوئے ہر دروازہ پر ریشمیں پردے تھے جس وقت میں نے اس پہاڑ کو دیکھا تو میں اس کی طرف دوڑا اور وہ سانپ بھی میرے پیچھے دوڑا جب اس کے قریب پہنچا تو چند فرشتوں نے پردے اٹھا کر اس کے دروازے کھول دیئے جس وقت پر دے اٹھ گئے اور دروازے کھل گئے تو بہت سے بچے چاند سے چہرے چھپکاتے ہوئے نکلے اور وہ سانپ میرے پاس آگیا میں اپنی فکر میں نہایت ہی حیران تھا اتنے میں مجھے اپنی بیٹی نظر آئی جو مرگئی تھی ۔ مجھے دیکھ کر رونے لگی اور کہا ہائے واللہ میرے ابا یہ کہتے ہی تیر کی طرح ایک نورانی مکان میں چلی گئی پھر اپنابایاں ہاتھ میرے داہنی طرف بڑھایا میں بھی اوپر چڑھ گیا اور اس نے اپنا داہنا ہاتھ اس سانپ کی طرف کیا تو وہ فورا پچھے کو بھاگ گیا پھر اس نے مجھے بٹھالیا اور خود میری کود میں بیٹھ گئی اور میری داڑھی پر ہاتھ مار کر کہا اے ابا کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکر اور حق (احکام) نازل شدہ سے مسلمانوں کے دل ڈر جائیں اس پر میں رونے لگا میں نے پوچھا کہ اے بیٹی کیا یہاں تم قرآن شریف بھی سیکھتی ہو کہا کہ ہم تم ہی سے سیکھتے ہیں میں نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ کہ یہ سانپ جو مجھے کھانے کو آتا تھا یہ کیا بلا تھی کہا یہ تمہاری بدا فعالیاں (برے کام) اور بد اعمالیوں (برے کاموں ) کا نتیجہ تھا تم ہی نے اسے بڑھا بڑھا کر ایسا قوی کر دیا کہ اب تمہیں یہ دوزخ میں جھونکنا چاہتا ہے میں نے پوچھا یہ بوڑھے صاحب کون تھے جن کے پاس کو میں آیا تھا کہا اے ابا یہ تمہارے اعمال صالحہ اور نیک افعال ہیں تم نے ان کو ایسا ضعیف (کمزور) و ناتواں کر رکھا ہے کہ تمہارے بد اعمال کے مقابلہ کی ان میں طاقت نہیں ہے میں نے پوچھا کہ اس پہاڑ مین تم کیا کرتی ہو کہا کہ ہم مسلمانوں کے بچے ہیں قیامت آنے تک ہم یہاں رہیں گی تمہارے آنے کا ہمیں انتظار رہتا ہے تاکہ ہم تمہارے لئے سفارش کریں تھوڑی دیر کے بعد میری آنکھ کھلی تو میں گھبرایا اور رعب (دبدبہ ) مجھ پر چھایا ہوا تھا جب صبح ہوئی تو جو کچھ میرے پاس تھا سب دے دلا دیا اور اللہ کے سامنے توبہ کی بس یہی میری توبہ کا باعث ہوا۔
Comments
Post a Comment