ہمزاد ||hamzad

 ہمزاد کی مجموعی طور پر چار اقسام ہیں ۔ ہمزاد چار طرح کا ہوتا ہے قبل اسکے کہ ہم ہمزاد کی اقسام بیان کریں ضروری خیال کرتے ہیں کہ پہلے ہمزاد کا وجود ثابت کریں ۔ لیکن چونکہ یہ ایک فروعی قسم کی بحث ہو گی جو آپکو مختلف ویڈیو میں بھی مل سکتی ہے ۔ اس لئے ہم اختصار سے کام لیں گے ۔ ہمزاد کے مختلف نام ہیں۔ عبرانی میں اسے طیف اور کئی دیگر ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ عربی میں قرین ہمزات وغیرہ سنسکرت میں سایہ (اسکے عمل کو سایہ پرشی) فارسی میں ہمزاد اور اردو میں بھی اسے ہمزاد ہی کہتے ہیں۔ بعض ہم نام بھی کہتے ہیں اسلام میں صوفیہ کرام اسے جسم لطیف روح حیوانی ،جسم مثالی وغیرہ کہتے ہیں ۔ ہوں تو انگریزوں کے مذہب سپر چولزم میں بھی اس کی حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ اور فن از خود نویسی میں بعض دفعہ اپنی روح یعنی ہمزاد کی طرف سے بھی اطلاعات موصول ہوتی ہیں ۔ انگریز کا مذہب سپرچولزم ہمارے آجکل کے نام نہار عالموں سے کئی گنا آگے ہے اور ہماری روحانیت کی ابتدائی سیڑھی کے قریب ہے ۔ ہم لوگ اپنے آباؤ اجداد کے ودیعت کردہ علوم کو فراموش کر چکے اور یورپ کے بیان کردہ لفظوں کو سچ خیال کرتے ہوئے اپنے آباؤ اجداد کو کم فہم توہم پرست اور دقیانوسی خیالات سے گردانا اور یورپ کے بیان کرده سحری الفاظ کے سحر کی بدولت اپنے علوم سے پہلوتہی کی ۔ جبکہ وہی یورپ والے آج انہی علوم کو مان رہے ہیں جو ہمارے آباء ارشاد فرما گئے ۔ اور یہ لوگ اپنے خیالات میں ترمیم کر چکے ہیں اور تسلیم کر چکے ہیں کہ ہمارے اس مادی عالم کے علاوہ بھی کوئی روحانی عالم ضرور ہے جو ہماری فہم سے بالا تر ہے ۔ لیکن ہمارے لوگ ابھی تک انہی سحراگیں خیالات کے سحر میں مسحور ہیں جو یورپ نے اپنی ایجادات دکھا کر ہمارے علوم سے

متعلق ہمارے لوگوں کے ازھان میں ڈالے تھے ۔ ہمزاد کو انگریزی میں Twin angel اور ڈپلی کیٹ کہتے ہیں۔ قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر اسکا ثبوت مل سکتا ہے ۔ عربی میں ایک لفظ ہے زوج " جس کے معنی ہے جو ڑا یا دو اور ایسے عدد کو بھی زوج کہتے ہیں جس کے دو برابر حصہ ہو سکیں اور زوج بیوی کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ مرد کا ایک حصہ ہے نر و مادہ کو بھیزوج کہا جاتا ہے اور کسی چیز کے ایک جیسے جوڑے کو جن میں نر و مادہ کی تخصیص نہ ہواسے بھی زوج کہا جاتا ہے۔قرآن حکیم کی ایک آیت ہے جس کا ترجمہ ہے۔ اور وہی پیدا کرتا ہے زوجین کو مذکر اور مونث اس میں مذکر اور مونث کی تخصیص ہو گئی۔ یعنی قرآن حکیم کا اسلوب بیان کیا خوب ہے کہ لفظ زوجین کی شرح کر دی کہ جوڑا سے مراد اس آیت میں مذکر اور مونث ہے۔ اس سےمعلوم ہوتا ہے انسان کا اگر ظاہر ہےتو ضرور کوئی باطن ہو گا اور جسم کثیف کا کوئی جسم لطیف ہو گا ۔ اور جسم اصل کا ضرور کوئی مثل ہوگا جس جسم مثالی کہتے ہیں ۔ کیونکہ کائنات میں یہ کلمہ جاری ہے اور دو دو کی ہمہ گیری کو ہم قرآنی نصوص قطعی سے ثابت کر چکے ہیں۔ جھوٹ کا متضاد سچ ہے۔ اگر سچ نہ ہو تو جھوٹ جھوٹ نہیں رہتا۔ ضرور اگر کوئی نیک ہے تو بد موجود ہے اگر بد نہ ہو تو نیک کا نام نیک بھی نہ ہو۔ ضروری ہے کہ اگر معبود ہے تو کوئی عابد بھی ہو اگر عابد نہ ہو گا تو معبود نہ ہو گا بلکہ کچھ اور بھی ہو سکتا ہے اس طرح اگر انسان کا ظاہر ہے تو باطن ضرور ہے۔ یعنی اگر جسم ظاہر کا ہوتا ہے تو اصولی کلیہ کے تحت جسم باطن کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ اور اگر اس جسم ظاہر کی مراعات اقتداد کم ہیں اور محدود ہیں تو ضرور اس باطنی جسم کی مراعات زیادہ اقتدار زیادہ اور لامحدود ہے ۔لیکن خلق ہونے کے ناطے محدود ہے ۔ یہ تو ہم نے مذہبی نقطہ نظر سے ثابت کر دیا کہ ہمزاد ہے بلکہ یہ ایک صاف اور واضح حقیقت ہے۔ یورپی نظریات کو سند مانے والے حضرات سے میری اپیل ہے کہ وہ یورپ کے مذہب سپرچولزم کا مطالعہ کریں ۔ اور یورپ کے کئی مشہور سائنسدان جو کے روحانیت کے تسلیم کرنے والے تھے یا ہو گزرے ہیں انکا مطالعہ کریں۔ علامہ شادل کی کتاب مقناطیسہ حیوان کا مطالعہ کریں ۔ اور عقلی دلائل وہاں سے بہت ملیں گے۔ یورپ پسند حضرات سے استدعا ہے کہ وہ نئے لٹریچر کو پڑھیں اور یورپ سے رابطہ قائم رکھیں ۔ تاکہ ان کو نئی معلومات ملیں اور وہ ان خیالات کو بھول جائیں جو یورپ کے آج سے دو چار سو برس قبل تھے ۔ دراصل ہمارے ساتھ ہوا یہ کہ جب انگریزوں نے ہمارے ملک (اس وقت ہندوستان تھا ) پر قبضہ کیا تو انہوں نے اپنے اس وقت کے خیالات کو ہندوؤں کے کچے دھنوں میں ڈالا اور اسلام کے علمبرداروں کو بھی اپنے اس وقت کے سائنسی شعبدہ جات دکھا کر خود کو بڑے فیلسوف اور دانا کہلوایا اور انکو روش مستقیم سے سے ہٹا دیا ۔ پھر جو باتیں ہمارے بڑے کرتےآئے وہ ہمارے معاشرہ میں پھیلتی گئیں اس طرح ہم اب تک انگریزوں کی ان پرانی باتوں کو دھرا رہے ہیں اب وہ کہاں ہیں ان کے نظریات کیا ہیں ان سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں رہا آپ سے میری استدعا ہے کہ آپ یورپ کی دور حاضر کی روحانیت پر طبع شدہ کتب کا مطالعہ کریں بالخصوص مندرجہذیل اصحاب اور کتب خانوں کی کتب اگر دلائی لامہ رامپا کی کتب کا مطالعہ کریں تو بہت اچھا ہے ۔ یورپ میں تو ( OCCULTISM ) نے ایک سائنس کی حیثیت اختیار کر رکھی ہے اور اس کی سوسائٹیاں مختلف مقامات پر قائم ہیں اگر آپ (STEINER) کی کتب THE WAY OF INITIATION کا مطالعہ کریں تو بہت سے حقائق روحانیت آپ پر وا ہو نگے اور اگر یورپین ساحر اعظم (ELLPHAS LEVI) کیکتب کا مطالعہ کریں تو حقیقتیں آپ سے ہم کلام کریں گی۔

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam