قرین اورسحر القرین کیا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
ہمزاد کو اردو اور فارسی میں قرین کہتے ہیں ۔ اور اس کی حقیقت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ دو قرین (همزاد ) پیدا فرمائے ہیں ، ایک شیطان اور ایک فرشتہ ! شیطان قرین یا شیطانی همزاد کی دن رات کوشش ہوتی ہے کہ انسان کو راہ راست سے پھسلا کر گمراہی کی گہری کھائی میں گرادے جبکہ فرشتہ قرین یا علوی ہمزاد کی مسلسل کوشش ہوتی ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسولوں کی اطاعت وفرماں برداری پر قائم رہے اور اللہ کی رضاء جوئی والے کام کر کے آخرت کی فلاح و نجات حاصل کرے ۔ رات سوتے وقت اور صبح جاگتے وقت ان دونوں قرینوں کی کشمکش کی طرح چلتی ہے۔ فرشتہ قرین رات کو خیر پر خاتمہ اور صبح خیر پر آغاز کی تلقین کرتا ہے جبکہ شیطان ہمزاد رات کو شر پر اختتام اور صبح شر سے آغاز کی تلقین کرتا ہے ۔ام المؤمنین ، صدیقہ بنت صدیق اکبر ، سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں :۔
-کہ ایک رات نبی کریم ﷺ ان کے ہاں سے کہیں باہر تشریف لے گئے ۔ فرماتی ہیں ، مجھے آپﷺ پر بہت غیرت آئی ۔ آپ واپس تشریف لائے تو مجھے دیکھتے ہی فرمانے لگے تمہیں تمہارے شیطان نے پکڑ لیا ہے ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میرے ساتھ کوئی شیطان ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! (اور صرف تمہارے ساتھ نہیں بلکہ ) ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر کیا آپ ﷺ کے ساتھ بھی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں !مگر اللہ تعالیٰ نے میری دستگیری فرمائی اور وہ مسلمان ہو گیا ہے۔
حضور ﷺ کا قرین مسلمان ہو گیا :۔
(صحیح مسلم ، دلائل النبوة ) -
حضرت عبداللہ بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا :-تم میں سے ہر آدمی کے ساتھ ایک ہمزاد جنات میں سے اور ایک ہمزاد (قرین ) فرشتوں میں سے لگا دیا جاتا ہے ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ کے ساتھ بھی؟ فرمایا ہاں ! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلہ میں میری دستگیری فرمائی تو وہ مسلمان ہو گیا ۔ چنانچہ وہ مجھے صرف بھلائی کیلئے ہی کہتا ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا :۔شیطان ( سفلی ہمزاد) کا بھی انسان پر ایک دباؤ ہوتا ہے اور فرشتے (علوی ہمزاد ) کا بھی ایک دباؤ ہوتا ہے ۔ شیطان کا دباؤ یہ ہوتا ہے کہ وہ شرکی رغبت دیتا ہے اور حق کو جھٹلانے کی دعوت دیتا ہے ۔ اور فرشتہ خیر کی ترغیب دیتا اور حق کی تصدیق کیلئے دعوت دیتا ہے ۔ جو شخص یہ بات پائے وہ سمجھ لے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ پاک کا شکر ادا کرے .حضور ﷺ کے شیطان قرین کے سلسلہ میں اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی خصوصی مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہو گیا۔ لیکن ایک حدیث میں حضرت عائشہ نے جبکہ دوسری حدیث میں دیگر صحابہ کرام نے سوال کیا تو ان میں سے کسی کو آپﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ تمہارا شیطانی: ہمزاد بھی مسلمان ہو سکتا ہے یا نہیں اس سے بظاہر یہی متبادر ہوتا ہے کہ شیطانی ہمزاد کا مسلمان ہو جانا صرف نبی کریمﷺ کی خصوصیت ہے اور شاید یہ امتیاز کسی اور کو حاصل نہیں ہوا ۔ البتہ عام مؤمن یہ کر سکتا ہے کہ وہ اللہ کی فرماں برداری ، سنت کی پاسداری ، امور و احکام شرع اسلامی کی پیروکاری کر کے اور اس شیطان کی مرضی پر زندگی بھر میں ایک بار بھی عمل نہ کر کے اسے تھکا ڈالے۔حضرت ابو ہریرہ حضور اقدس ﷺ کا اسی مفہوم میں ایک ارشاد وگرامی یوں روایت فرمارہے ہیں :۔مومن اپنے شیطان ( شیطانی ہمزاد ) کو بالکل اسی طرح بے بس کر دیتا ہے جیسے تم لوگ سفر میں اونٹ کو تھکا مارتے ہو ( مسندا احمد نوادر الاصول، کنز العمال):۔امام غزالی نے احیاء علوم الدین میں ایک عجیب واقعہ لکھا ہے کہ حضرت قیس بن حجاج فرماتے ہیں کہ میرے شیطان ( سفلی ہمزاد ) نے مجھے بتلایا کہ جب میں آپ میں داخل ہوا تھا تو کتے کے پلے جتنا تھا۔ اور اب چڑیا جتنا ہو گیا ہوں ۔ میں نے پوچھا یہ کیسے ہوا ؟ بولا : آپ نے مجھے قرآن کے ساتھ پکھلا دیتے ہیں، سحر القرین جادو کی ایک انتہائی خطرناک قسم ہے، جو انسان اور اس کے ہمزاد (قرین) دونوں پر کیا جاتا ہے۔ قرین شیاطین میں سے ہوتا ہے اور انسان کا دشمن ہوتا ہے، اسی لیے وہ کبھی مدد نہیں کرتا۔یہ جادو کرنے کے لیے جادوگر بہت تجربہ کار اور شیطانی عملوں میں ماہر ہوتا ہے۔ سحر القرین میں قرین متاثرہ انسان کے خون سے جُڑ جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ جادو جسم اور دماغ دونوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
سحر القرین کی علامات:علاج کے باوجود صحت یابی نہ ہونا۔مسلسل وسوسے اور نفسیاتی پریشانی۔نماز اور دین سے دوری یا نفرت محسوس کرنا۔جسم کے بائیں جانب، خاص طور پر بازو میں شدید درد.جسم میں تیز دھڑکن یا نبض کا احساس۔خواب میں "سورہ ق" سننا یا خود کو دیکھنا۔جسم پر نیلے دھبے یا بے چینی۔رقیہ شرعیہ (قرآنی علاج) کا اثر نہ ہونا۔سحر القرین کا علاج:1. قرآنی تلاوت:آیت الکرسی کو بار بار پڑھیں۔سورۃ البقرہ، سورۃ الناس، اور سورۃ الفلق کی تلاوت کریں۔2. مسلسل دعا اور ذکر:سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کو بار بار پڑھتے رہیں۔3. اللہ پر بھروسہ:مکمل یقین اور صبر کے ساتھ قرآن و سنت کے مطابق علاج کریں۔یہ جادو کا علاج صبر، مستقل مزاجی، اور ایمان کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ الله تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو ہر طرح کے جادو سے محفوظ رکھے۔۔
Comments
Post a Comment