سرمد کاشانی ایک مشہور صوفی بزرگ
سرمد کاشانی ایک مشہور صوفی بزرگ تھے جو مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں دلی آئے۔ انہوں نے جامع مسجد کے مشرقی دروازے کی سیڑھیوں کے قریب رہنا شروع کیا اور اپنے وقت کے بہت مقبول صوفی بن گئے۔آخری دنوں میں سرمد برہنہ رہنے لگے تھے اور کلمہ طیبہ کا صرف پہلا حصہ "لا الہ" یعنی "کوئی خدا نہیں ہے" پڑھتے تھے۔قاضی نے ان پر پورا کلمہ نہ پڑھنے کا الزام لگایا اور مغل بادشاہ اورنگزیب کے حکم پر 1660 میں جامع مسجد کی سیڑھیوں کے قریب ان کا سر قلم کر دیا گیصوفی سرمد کا مزار اسی جگہ واقع ہے جہاں ان کا سر قلم کیا گیا تھا۔ آج بھی ہزاروں عقیدت مند اور مریدین ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔سرمد کی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ وہ فارسی کے ایک بہترین شاعر تھے اور ان کی رباعیات کا ایک مجموعہ بھی موجود ہے۔سرمد آرمینیائی نسل کے ایرانی یہودی تھے۔ وہ ایران کے شہر کاشان میں ایک یہودی تاجر اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اس وقت کاشان میں یہودی اور مسیحی بڑی تعداد میں آباد تھے۔سرمد نے بچپن میں ہی عبرانی اور فارسی زبانوں میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ نوجوانی میں انہوں نے تورات اور انجیل کا گہرا مطالعہ کیا۔ علم کی تلاش میں وہ اس وقت کے مشہور اسلامی علما ملا صدرا شیرازی اور میر فندریسکی کی صحبت میں سرمد کے خاندانی نام کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں ملتیں۔ تاریخی تذکروں میں انہیں صرف "سرمد" کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ تاہم، بعض تذکروں میں انہیں "سعید سرمد" بھی کہا گیا ہے، جو ممکنہ طور پر ان کا اسلامی نام ہو سکتا ہے۔ دبستانِ مذاہب کے مصنف نے اپنی کتاب میں ان کا ذکر "محمد سعید سرمد" کے نام سے کیا ہے۔سرمد یہودی مذہب اور صوفیانہ روحانیت کا امتزاج تھے۔ ان کی شخصیت کسی ایک مخصوص مذہب کی تشریح میں مکمل طور پر فٹ نہیں بیٹھتی۔تاریخی کتابوں میں ان کا ذکر مختلف ناموں سے کیا گیا ہے، جیسے "یہودی تاجر"، "سرمد یہودی"، "یہودی صوفی" اور "یہودی دہریہ"۔کہا جاتا ہے کہ سرمد لاہور اور حیدرآباد سے ہوتے ہوئے دلی پہنچے۔ اس وقت تک ان کی شہرت ایک صوفی کے طور پر کافی پھیل چکی تھی۔ وہ اکثر مجذوب کی کیفیت میں رہتے اور برہنہ رہنے لگے تھے۔سید محمد احمد سرمدی نے اپنی کتاب "سرمد شہید" میں لکھا ہے کہ چونکہ سرمد مکمل طور پر برہنہ رہتے تھے اور ایک باکمال بزرگ تھے، اس لیے لوگوں کی توجہ ان پر زیادہ ہوتسرمد کی شہرت مغل ولی عہد دارا شکوہ تک پہنچ گئی تھی۔ دارا شکوہ ایک ایسی شخصیت تھے جو ہر مذہب و ملت کے بزرگوں سے یکساں عقیدت رکھتے تھے۔ ان کے دربار میں ہندو یوگی اور مسلمان درویش دونوں موجود ہوتے تھے۔دارا شکوہ کا کسی ایک مخصوص مذہب سے تعلق نہیں تھا۔ وہ جس مذہبی گروہ کے ساتھ ہوتے، اسی کی تعلیمات کی بات کرتے۔ مسلمانوں کے ساتھ وہ اسلامی تعلیمات کی تعریف کرتے، یہودیوں کے ساتھ یہودیت پر گفتگو کرتے، اور ہندوؤں کے درمیان ہندو مذہب کا ذکر کرتے۔
اسی رویے کی وجہ سے اورنگزیب نے دارا شکوہ کو کافر قرار دیا تھا۔ دارا شکوہ جیسویٹ (ایک مسیحی فرقہ) کے پادریوں کے ساتھ بات چیت کر کے خوش ہوتے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ سرمد، دارا شکوہ کی موجودگی میں اپنی کمر کو کپڑے سے ڈھانپ لیتے تھے۔ ان کی اس قربت اور احترام کی وجہ سے دارا شکوہ سرمد کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے دارا شکوہ جوگیوں اور سنیاسیوں کو عارف باللہ سمجھتے تھے۔ وہ ہر صبح سورج کو پانی چڑھاتے تھے اور اپنی انگوٹھی پر "پربھو" کا لفظ کندہ کروایا ہوا تھا۔ یہ باتیں اورنگزیب جیسے سخت العقیدہ سنی مسلمان کو ناپسند تھیں۔دارا شکوہ کی مذہبی روش اور عقائد نے اورنگزیب کو ان کے خلاف کر دیا۔ اس وجہ سے سرمد بھی اس مخالفت کی زد میں آگئے، کیونکہ وہ دارا شکوہ کے قریبی تھے۔اورنگزیب کے بادشاہ بننے کے بعد دارا شکوہ پر کفر کا الزام لگا کر ان کا سر قلم کر دیا گیا۔ سرمد کو بھی محض برہنگی کی وجہ سے سزا نہیں دی گئی بلکہ ان کے کلمہ طیبہ کا مکمل نہ پڑھنے پر قاضی کی شکایت پر ان کے خلاف کارروائی ہوئی۔
قاضی القضاۃ ملا عبدالقوی نے سرمد سے پوچھا کہ وہ کلمہ پورا کیوں نہیں پڑھتے تو سرمد نے جواب دیا، "میں ابھی نفی کی منزل تک پہنچا ہوں۔ جب خدا کا دیدار ہو جائے گا، تب اثبات کے لیے پورا کلمہ پڑھوں گا۔ جس چیز کو دیکھا نہیں، اس کا اقرار کیسے کر سکتا ہوں؟"سرمد کو برہنگی چھوڑنے اور کلمہ پورا نہ پڑھنے پر معافی مانگنے کے لیے کہا گیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور مسکراتے ہوئے ایک شعر پڑھا:
عمریست کہ افسانہ منصور کہن شد
من از سر نو جلوہ درہم دارو رسن را"
یعنی: "منصور کا قصہ اب پرانا ہو چکا ہے۔ اب پھانسی پر لٹکنے کی ایک نئی داستان لکھی جائے۔"
اورنگزیب نے سرمد کا سر قلم کرنے کا حکم دیا۔ جامع مسجد کی سیڑھیوں کے نیچے جب ان کا سر قلم کیا گیا تو وہاں عوام کا ایک بہت بڑا ہجوم ان کی آخری زیارت کے لیے موجود تھا۔
کہا جاتا ہے کہ جب سرمد کو قتل کیا گیا تو ان کے کٹے ہوئے سر سے تین بار "لاَ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ" نکلا۔ کچھ روایتوں میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ کچھ دیر تک اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول رہے۔
سرمد کی شاعری عشقِ حقیقی کے جذبات سے بھرپور تھی۔ انہوں نے کسی نئے صوفی سلسلے یا نظریے کی بنیاد نہیں رکھی، لیکن انڈیا کے روحانی تصورات اور ان کے ارتقا میں ان کا کردار نمایاں رہا۔آج سرمد کا مزار اسی مقام پر موجود ہے جہاں ان کا سر قلم کیا گیا تھا۔ یہ مزار تاریخ کے اس عظیم صوفی کردار کی یاد دلاتا ہے۔۔
Comments
Post a Comment