اسمِ اعظم یَا سَلَامُ کی فضیلت اور تاثیر

 : اسمِ اعظم یَا سَلَامُ کی فضیلت اور تاثیر

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

اسمِ اعظم کے حوالے سے بزرگانِ دین کے بے شمار اقوال موجود ہیں۔ ایک بار کسی نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ اسمِ اعظم کی تعلیم فرمائیں۔ انہوں نے کہا: "اللہ کا سب سے چھوٹا نام بتاؤ، میں سب سے بڑا نام بتا دیتا ہوں۔" حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر اسم میں اسمِ اعظم کی تاثیر موجود ہے۔ کچھ لوگ "یا حی یا قیوم"، "ملک اللہ"، اور "ذوالجلال والاکرام" کو اسمِ اعظم مانتے ہیں، جبکہ کچھ بزرگانِ دین "ھو" اور "اسمِ ذات" کو بھی اسمِ اعظم قرار دیتے ہیں۔:

اسم "یَا سَلَامُ" میں بھی عجیب معجزات پوشیدہ ہیں۔ نبوت سب سے اعلیٰ مقام ہے اور ہر نبی کے نام کے بعد "علیہ السلام" کہا جاتا ہے۔ قرآن میں نبیوں کے لیے ذکر ہے:

"سلامٌ علی المرسلین" (سورۃ الصافات)نبی اکرم ﷺ کے لیے فرمایا گیا: "صلوۃ و سلام بھیجا کرو۔" نماز، جو دین کا اہم ستون ہے، کا اختتام بھی "السلام علیکم ورحمۃ اللہ" پر ہوتا ہے۔ سورۃ یس میں ایک قول ہے کہ "سلم قول من رب الرحیم" بھی اسمِ اعظم کا درجہ رکھتا ہے۔قرآن حکیم میں متعدد بار "سلام" کا ذکر ہوا ہے: "سلم علی نوح فی العالمین" "سلم علی ابراہیم" "سلم علی موسی و ہارون""سلم علی یاسین" "سلم علی المرسلین" "سلم ہی حتی مطلع الفجر"یہ سات سلام، جو ہر نماز کے بعد 11 بار پڑھے جائیں، حفظ و سلامتی کے لیے بہت مجرب ہیں۔ دین، جسم، اور روح کی سلامتی سب سے بڑی نعمت ہے، اور اللہ تعالیٰ جس سے راضی ہوتے ہیں، اسے سلامتی عطا فرماتے ہیں۔اگر آپ امن، سلامتی، اور دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو "یَا سَلَامُ" کا یہ خاص وظیفہ کریں:عشاء کی نماز کے بعد یا فجر کی نماز کے بعد وظیفہ تین بار درودِ شریف پڑھیں۔313 مرتبہ "یَا سَلَامُ" کا ورد کریں۔آخر میں تین بار درودِ شریف پڑھیں۔۔ اگر آپ کا یقین پختہ ہوگا تو پھر آپ اس کے فوائد سے مستفید ہوں گے۔ اور اس کے فوائد آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ۔ اگر یقین میں کمزوری ہوگی تو پھر وظیفہ پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ کو کسی قسم کا فائدہ نہیں ہونے والا ۔ یا درکھیں ! آپ نے اس عمل کو نماز فجر اور نماز عشاء کے بعد کرنا ہے۔ اول و آخر تین تین مرتبہ درود ابراہیمی پڑھ کر سرسجدے میں رکھ کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنی ہے۔ استغفار کرنا ہے۔ اور پھر عاجزی اور انکساری کے ساتھ اپنی ضرورت ، اپنی حاجت ، اپنی مشکل کے لیے دعا کرنی ہے۔اگر آپ غریب ہیں ، مفلس ہیں، تنگدست ہیں۔ تو پھر اپنی غربت ، تنگدستی اور مفلسی کے لیے دعا کریں ۔ اگر آپ مقروض ہیں ۔تو آپ نے اپنے قرض کے لیے دعا کریں۔ اگر آپ کے بچوں کی شادی میں کسی قسم کی رکاوٹ ہے۔ اس کے لیے دعا کریں۔ اگر آپ کے ہاں اولاد نہیں ہے تو اس کے لیے دعا کریں۔ انشاء الله ! الله تعالی اس عمل کی برکت سے اور اپنے فضل سے آپ کی دعا کو ضرور قبول فرمائیں گے ۔

دعا مانگتے وقت اللہ تعالیٰ سے اپنی سلامتی، امن، اور حفاظت کے لیے خصوصی دعا کریں۔




Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam