فنا اور بقا کا راز

فنا اور بقا کا راز 

حضور خواجہ علاؤالدین صابر پاکؒ سے ان کے ایک مرید اکثر پوچھتے تھے کہ حضور فنا اور بقا کا راز کیا ہے، لیکن آپ خاموش رہتے۔ آپ نے اپنے اس مرید کو وصیت فرمائی کہ جب میرا وصال ہو جائے تو میرا جنازہ ایک شہسوار آ کر پڑھائے گا۔

جب حضور صابر پاکؒ کا وصال ہوا تو آپ کے مرید اور جانشین حضرت شمس الدینؒ نے آپ کی وصیت کے مطابق غسل دینے کے بعد شہسوار کا انتظار شروع کر دیا۔ اچانک کچھ لمحوں میں برق رفتار گھوڑے پر ایک نقاب پوش شخص نمودار ہوا۔ وہ گھوڑے سے اترتے ہی نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔

نمازِ جنازہ کے بعد حضرت شمس الدینؒ نے نقاب پوش کے سامنے آ کر عرض کی: "حضور، مجھے اپنا چہرہ مبارک دکھا دیجیے تاکہ میں جان سکوں کہ یہ کون سی ہستی ہے جس نے میرے مرشد کریم کا جنازہ پڑھایا۔" یہ سن کر شہسوار نے اپنا نقاب ہٹا دیا۔

حضرت شمس الدینؒ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جنازہ پڑھانے والے کوئی اور نہیں، خود حضرت صابر پاکؒ تھے! پھر حضور صابر پاکؒ نے فرمایا: "شمس الدین، تو مجھ سے اکثر پوچھا کرتا تھا کہ فنا اور بقا کا راز کیا ہے۔" آپ نے اپنے جسم مبارک کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: "یہ فنا ہے۔" اور پھر اپنی طرف اشارہ کر کے فرمایا: "یہ بقا ہے۔"

اس کے بعد آپ گھوڑے پر سوار ہوئے اور جس طرف سے آئے تھے، اسی طرف غائب ہو گئے۔

اللہ کریم جب تک زندہ رکھے، تو ان ہی اولیاء اللہ کی غلامی میں رکھے۔ موت دے، تو وہ بھی ان ہستیوں کی غلامی میں دے۔ اور جب بروز قیامت اٹھائے، تو ان بزرگوں کی پناہ نصیب فرمائے۔ آمین۔



Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam