Angel Mika'il (AS) — The Angel Who Never Smiled After Hell

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
 اسلامی روایات میں حضرت میکائیل علیہ السلام کا مقام بہت بلند ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں میں سے ہیں، جنہیں خاص خاص کاموں کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کئی احادیث میں روشنی ڈالی ہے جو ہمیں ان کی عظمت اور خشیتِ الٰہی کا اندازہ دیتی ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: مَالِي لَمْ أَرَمِيكَائِيلَ ضَاحِكاً قَطُّ ، قَالَ مَا ضَحِكَ مِيكَائِيلُ مُنْذُ خُلِقَتِ النَّارُ . کیا بات ہے میں نے میکائیل کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا؟" تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: "جب سے دوزخ پیدا کی گئی ہے، حضرت میکائیل علیہ السلام نے کبھی نہیں ہنسے ۔" (مسند احمد) یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت میکائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھ کر اتنے زیادہ خوف زدہ ہیں کہ اُن کے لبوں پر کبھی مسکراہٹ نہیں آئی۔ ان کے دل میں اللہ کا خوف اور جہنم کی ہیبت ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ حضرت زید بن رفیع تابعی فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل کو مسواک پیش کی تو حضرت جبرائیل نے عرض کیا: "بڑے کو دیجئے۔" اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میکائیل علیہ السلام عمر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام سے بڑے ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آسمان والوں میں میرے دو وزیر حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل ہیں اور زمین والوں میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔" اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إن الله أيدني بأربعة وزراء؛ اثنين من أهل السماء : جبريل وميكائيل، واثنين من أهل الأرض : أبو بكر وعمر . ( ترجمہ ) اللہ نے چار وزراء سے میری تائید اور مدد فرمائی ہے۔ دو آسمان والوں سے ہیں ( یعنی ) جبرائیل اور میکائیل ۔ اور دو زمین والوں میں سے ہیں (یعنی) ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما" ان دونوں احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آسمانی وزیر ہیں، جو آپ کی مدد اور نصرت کے لئے اللہ کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اہلِ آسمان کے مؤذن حضرت جبرائیل ہیں اور ان کے امام حضرت میکائیل ہیں، جو بیت المعمور کے قریب فرشتوں کو نماز پڑھاتے ہیں۔ تمام آسمانوں کے فرشتے جمع ہو کر بیت المعمور کا طواف کرتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔" اللہ تعالیٰ فرشتوں کی اس عبادت کا ثواب امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرماتا ہے، کیونکہ فرشتے تو اللہ کی رضا کے لئے عبادت کرتے ہیں اور انہیں ثواب کی حاجت نہیں ہوتی۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بیان کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے میکائیل نے حدیث بیان کی، اور میکائیل نے کہا کہ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ مجھے اسرافیل نے لوح محفوظ سے یہ بات نقل کی کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ شرابی بت پرست کی طرح ہے۔" ابن نجار نے اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ تمام راویوں نے اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر اسے بیان کیا ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو حلیتہ الاولیاء سے نقل کیا ہے، لیکن اس روایت میں حضرت جبرائیل کا ذکر آتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: "اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! شراب پینے والا ایسے ہے جیسے بت پرست ہو۔" اس مفہوم کی حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح ابن حبان میں، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مستدرک حاکم میں بھی مروی ہے۔ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے بھی فرمایا: "میں کوئی فرق نہیں سمجھتا کہ شراب پی لوں یا کسی ستون کی پوجا کر لوں۔" ان تمام روایات سے شراب نوشی کی سخت مذمت اور وعید ثابت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو شراب نوشی اور ہر قسم کے گناہوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam