حضرت ابو مسلم خولانیؒ کا ایمان افروز واقعہ – جب آگ گلزار بن گئی
حضرت ابو مسلم خولانیؒ کا ایمان افروز واقعہ –
جب آگ گلزار بن گئی
۔
حضرت ابو مسلم خولانیؒ، جن کا اصل نام عبداللہ بن ثوبؒ تھا، تابعین میں سے ایک بہت بڑے ولی اور نیک انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ فرمایا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ آتش نمرود میں ہوا تھا۔
یعنی اللہ نے ان کے لیے آگ کو بے اثر کر دیا۔
حضرت ابو مسلم خولانیؒ یمن میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اسلام قبول کر لیا تھا، لیکن ان کو حضور ﷺ کی زیارت کا موقع نہ مل سکا۔
اسی دوران یمن میں ایک جھوٹا نبی "اسود عنسی" ظاہر ہوا، جو لوگوں کو زبردستی اپنی جھوٹی نبوت ماننے پر مجبور کرتا تھا۔
اس نے حضرت ابو مسلمؒ کو بھی اپنے پاس بلایا اور کہا:
"میری نبوت پر ایمان لاؤ۔"
حضرت ابو مسلمؒ نے انکار کر دیا۔
اسود نے پوچھا: "کیا تم محمد ﷺ کو اللہ کے نبی مانتے ہو؟"
حضرت ابو مسلمؒ نے فرمایا: "ہاں، میں ان کی نبوت پر ایمان رکھتا ہوں۔"
یہ سن کر اسود عنسی نے ایک بہت بڑی آگ جلائی اور حضرت ابو مسلمؒ کو اس میں ڈال دیا۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر آگ کو بھی بے اثر کر دیا، اور وہ آگ سے صحیح سلامت باہر نکل آئے۔
یہ منظر دیکھ کر اسود اور اس کے ساتھی خوفزدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا:
"اسے یہاں سے نکال دو، ورنہ لوگ اس کے کرامت دیکھ کر تمہیں جھوٹا سمجھ لیں گے۔"
چنانچہ حضرت ابو مسلم خولانیؒ کو یمن سے جلا وطن کر دیا گیا۔
وہ سیدھے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے تاکہ رسول اللہ ﷺ کی زیارت کر سکیں، لیکن جب مدینہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کا وصال ہو چکا ہے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ بن چکے ہیں۔
حضرت ابو مسلمؒ نے اپنی اونٹنی مسجد نبویؐ کے دروازے کے باہر باندھی، اور مسجد میں داخل ہو کر ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھنے لگے۔
اس وقت مسجد میں حضرت عمر فاروقؓ بھی موجود تھے۔
انہوں نے ایک اجنبی شخص کو نماز پڑھتے دیکھا تو نماز کے بعد ان سے پوچھا:
"آپ کہاں سے آئے ہیں؟"
حضرت ابو مسلمؒ نے کہا: "میں یمن سے آیا ہوں۔"
حضرت عمرؓ نے فوراً پوچھا:
"کیا اسود عنسی نے ایک شخص کو آگ میں ڈالا تھا اور وہ آگ اس پر اثر نہ کر سکی؟ پھر اس شخص کا کیا ہوا؟"
حضرت ابو مسلمؒ نے کہا:
"اس شخص کا نام عبداللہ بن ثوب ہے۔"
حضرت عمرؓ فوراً سمجھ گئے کہ وہ یہی ہیں۔
انہوں نے کہا:
"اللہ کے واسطے سچ بتاؤ، کیا وہ آپ ہی ہیں؟"
حضرت ابو مسلمؒ نے کہا:
"جی ہاں! میں ہی وہ شخص ہوں۔"
یہ سن کر حضرت عمرؓ اتنے خوش ہوئے کہ محبت سے ان کی پیشانی کو بوسہ دیا،
پھر انہیں لے کر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس گئے،
انہیں اپنے اور حضرت صدیقؓ کے درمیان بٹھایا،
اور کہا:
"اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے موت سے پہلے اس امت کے اُس بندے کی زیارت نصیب فرمائی جس کے ساتھ اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسا معاملہ فرمایا۔"
حوالہ جات:
حلیۃ الاولیأ ص ۱۲۹، ج۲
تہذیب ج ۶، ص ۴۵۸
تاریخ ابن عساکر ص۳۱۵، ج۷
جہاں دیدہ ص ۲۹۳
ترجمان السنۃ ص ۳۴۱، ج۴
جزاکم اللہ خیراً
Comments
Post a Comment