حضرت یحییٰ (ع) کے ایرانی پیروکار – مندائی قوم
ایران کے جنوب مغربی صوبے "خوزستان" میں ایک مذہبی اقلیت رہتی ہے جنہیں "مندائی" کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو اپنا نبی مانتے ہیں۔
یہ مذہب ایران کے آئین میں تسلیم شدہ چار آسمانی مذاہب (اسلام، یہودیت، عیسائیت، زرتشت) میں شامل نہیں ہے، لیکن ایران کے رہبر کے ایک فتویٰ کی وجہ سے انہیں اپنے دین پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔
مندائی لوگ بہتے پانی کو بہت مقدس سمجھتے ہیں۔ اسی لیے وہ دریاؤں یا ندیوں کے قریب رہتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت یحییٰ (ع) غسل دیا کرتے تھے، اس لیے وہ روز صبح ندی میں غسل کرتے ہیں۔ ان کے مذہبی فرائض میں پانچ وقت کی نماز، روزہ، اور غسل شامل ہیں۔
شادی کے بعد جب تک دولہا اور دلہن ندی میں غسل نہ کرلیں، وہ ایک دوسرے کے لیے حلال نہیں ہوتے۔ طلاق ان کے مذہب میں حرام ہے، اس لیے ان میں طلاق کے واقعات بہت کم ہیں۔
یہ لوگ قدیم آرامی زبان بولتے اور لکھتے ہیں۔ ان کی مذہبی کتاب "گنزا ربّا" ہے، جو ان کے مطابق حضرت آدم (ع) سے حضرت یحییٰ (ع) تک پہنچی۔ وہ ایک خدا کو مانتے ہیں اور ان کا قبلہ شمال کی طرف ہے، کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق خدا کا انصاف شمال کی جانب ہے۔
مندائی قوم کو ایران میں "صابئین" بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت سال پہلے فلسطین سے ہجرت کرکے خوزستان (ایران) اور بصرہ (عراق) میں آ کر آباد ہوئے۔
آج بھی ایران میں ان کی تعداد تقریباً 20 ہزار ہے، اور زیادہ تر لوگ "اہواز" شہر میں کارون ندی کے پاس رہتے ہیں۔
اگرچہ حضرت یحییٰ (ع) کو ماننے کے باوجود اکثر مسلمان علما انہیں اہلِ کتاب نہیں مانتے، پھر بھی ایران میں ان کے ساتھ مذہبی تعصب بہت کم پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ حکومت کا منصفانہ رویہ ہو سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment