How Are Angels Created and What Do They Do? A Glimpse into the World of Angels in Islam

بسم اللہ الرحمن الرحیم "آسمانوں اور زمین کے درمیان ایسی مخلوق موجود ہے، جن کی تعداد، نور، عبادت اور عظمت انسان کی سوچ سے بھی باہر ہے۔ فرشتے، وہ نورانی مخلوق ہیں جو دن رات رب کی تسبیح میں مصروف ہیں، جن کے قطراتِ وجود سے نئے فرشتے پیدا ہوتے ہیں، جو قیامت تک سجدے میں ہیں، جن کے اشک بھی عبادت کا حصہ ہیں۔حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ( ترجمہ ) جنت میں ایک نہر ہے حضرت جبرائیل جس مرتبہ بھی اس میں سے داخل ہو کر کے نکلتے ہیں اور اپنے بدن کو جھاڑتے ہیں تو اس کے ہر گرنے والے قطرہ سے اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ پیدا فرماتے ہیں۔ حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ فضاء میں ایک نہر ہے جس کا پھیلا و تمام زمینوں کا سات گنا ہے اس نہر میں ایک فرشتہ آسمان سے اترتا ہے جو اسے پُر کر دیتا ہے اور اس کے اطراف کو بھی بھر دیتا ہے پھر اس میں غسل کرتا ہے جب اس سے غسل کر کے باہر نکلتا ہے تو اس سے نور کے قطرات گرتے ہیں پس اس کے ہر قطرہ سے ایک فرشتہ ظاہر ہوتا ہے جو تمام مخلوقات کی تسبیحات کے برابر تسبیح پڑھتا ہے۔ امام اوزاعی فرماتے ہیں موسی علیہ السلام نے عرض کیا اے میرے پروردگار آپ کے ساتھ آسمان میں کون ہے؟ فرمایا میرے فرشتے ہیں ۔ عرض کیا اے میرے پروردگار ان کی تعداد کتنی ہے؟ فرمایا بارہ قبیلے ہیں ۔ عرض کیا ہر قبیلے کے کتنے افراد ہیں؟ فرمایا زمین کے ذرات کے برابر ۔ العلاء بن ہارون فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل ہر دن شہر کوثر میں ایک غوطہ لگاتے ہیں۔ پھر کا نپتے ہیں جس کے ہر قطرہ سے ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے ۔ ۵ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا لَيْسَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ اَكْثَرُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مَا مِنْ شَيْءٍ يَنْبُتُ إِلَّا وَمَلَكَ مُؤَكَّلٌ بِه ... ( ترجمہ ) اللہ کی مخلوق میں فرشتوں سے زیادہ کوئی مخلوق نہیں ۔ کوئی چیز بھی ( زمین سے ) نہیں اگتی مگر اس کے ساتھ ایک مؤکل فرشتہ ہوتا ہے۔ حضرت حکم ( بن عتیبہ ) فرماتے ہیں مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ بارش کے ساتھ اولاد آدم اور اولاد ابلیس سے زیادہ فرشتے اترتے ہیں جو ہر قطرہ کو شمار کرتے ہیں اور یہ کہ وہ کہاں پڑتا ہے اور اس پھل سے کسے رزق دیا جائے گا۔ حضرت وہب فرماتے ہیں کہ ساتوں آسمان فرشتوں سے بھرے ہوئے ہیں اگر ایک بال برابر خالی جگہ تلاش کی جائے تو وہ بھی نہ ملے ۔ ان میں سے کوئی بے حرکت ہے کوئی رکوع میں ہے، اور کوئی سجدہ میں ہے ان کے گوشت کے لوتھڑے اللہ کے خوف سے اچھلتے اور پر حرکت میں رہتے ہیں جبکہ انہوں نے پل بھر بھی اُس کی نافرمانی نہیں کی۔ اور عرش کو اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کے ٹخنے سے لیکر اس کے گودے تک پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ ( حدیث ) حضرت عبداللہ بن عمرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا(ترجمه) فرشتوں کے دس حصے ہیں تو حصے کرو بیون ہیں جو رات دن تسبیح کہتے ہیں کسی وقت وقفہ نہیں کرتے۔ اور ایک حصہ وہ ہیں جو ہر چیز کے خزانہ کے نگران ہیں۔ آسمان میں کوئی جگہ نہیں مگر وہاں کوئی فرشتہ سجدہ میں ہے یا رکوع میں ہے اور حرم مکہ عرش معلی کے بالمقابل ہے اور بیت المعمور کعبہ کے بالمقابل ہے ۔ اگر یہ (بیت المعمور ) گرے تو سیدھا کعبہ پر آ رہے ۔ اس ( بیت المعمور ) میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں ان کی باری دوبارہ نہیں آتی۔ (ابو ) عمر و ( نوف) البکالی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو دس حصوں میں تقسیم فرمایا ہے ان میں سے نو حصے تو کروبیون ،، ہیں اور یہ وہ فرشتے ہیں جو عرش کو اٹھانے والے ہیں اور وہ بھی ہیں جو رات دن بلا وقفہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ۔ اور جو باقی فرشتے بیچتے ہیں وہ امور خداوندی اور اللہ کے احکام) کی پیغام رسانی کرتے ہیں اے (فائدہ) کروبیون وہ فرشتے ہیں جو باقی فرشتوں کے سردار ہیں اور اللہ کے مقرب ترین ہیں۔ عبد الرحمن بن سلمان فرماتے ہیں انسانوں اور جنات کے دس حصے ہیں پھر انسان جنات کا دسواں حصہ ہیں اور جنات نو حصہ ( زیادہ ) ہیں ۔ پھر جنات اور ملائکہ (فرشتے) دس حصہ ہیں پس جنات ایک حصہ ہیں اور فرشتے نو حصے (زیادہ ) ہیں ۔ اور ملائکہ اور روح دس حصے ہیں پس ملائکہ ایک حصہ ہیں اور روح نو حصے (زیادہ ) ہیں ۔ پھر روح اور کروبیون دس حصے ہیں پس روح ایک حصہ ہے اور کروبیون نو حصے(زیادہ) ہیں ہے ( حدیث ) عدی بن ارطات ایک صحابی کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔( ترجمہ ) اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جن کے کندھے کے گوشت خوف کے مارے کاپیتے ہیں ان میں سے کوئی فرشتہ ایسا نہیں کہ اس کی آنکھوں سے کوئی آنسو نکلے مگر وہ حالت قیام میں تسبیح پڑھنے والے فرشتے پر جا گرتا ہے۔ اور کچھ فرشتے ایسے ہیں جب سے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے تب سے سجدہ میں ہیں انہوں نے کبھی سر نہیں اٹھایا اور نہ قیامت تک سر اٹھا ئیں گے ۔ اور کچھ فرشتے رکوع میں ہیں انہوں نے بھی کبھی سر نہیں اٹھایا اور نہ کبھی قیامت تک سر اٹھائیں گے ۔ اور کچھ فرشتے صف بستہ ہیں جو اپنی صفوں سے کبھی نہیں ہٹے اور نہ قیامت تک ہٹیں گے۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ عز وجل ان کے سامنے تجلی فرمائیں گے تو یہ اللہ کی زیارت کریں گے اور عرض کریں گے آپ کی ذات پاک ہے جس طرح لائق تھا ہم نے اس طرح سے آپ کی عبادت نہیں کی۔ حضرت ربیع بن انس وَ عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آپ (یعنی حضرت آدم ) کو فرشتوں کے نام سکھلائے گئے تھے۔ ( امداد اللہ ) ابوالشیخ ، شعب الایمان بیہقی ، خطیب بغدادی ، ابن عساکر ( منه ) جمع الجوامع ۲۹۴۵ تفسیر ابن کثیر ۲۹۷/۸، تاریخ بغداد ۳۰۷/۱۲، اتحاف السادة ۱۲۶/۹، ۱۰/ ۲۱۷ ، حاوی للفتاوی ۳۵۰/۲ ، کنز العمال ۲۹۸۳۶ ، الفقيه والمتفقه ص ۱۰۔ ابن جریر (منہ ) Between the heavens and the earth, there exists a creation of Allah whose number, light, worship, and greatness is beyond human imagination. These are the angels — beings made of light, who are constantly engaged in praising Allah. From their drops of existence, new angels are created. Some are in sujood (prostration) until the Day of Judgment, and even their tears become part of their worship. Hazrat Abu Saeed (RA) reported that the Prophet Muhammad ﷺ said: "In Paradise, there is a river. Whenever Jibreel (AS) enters it and shakes his body after coming out, from every drop that falls, Allah creates a new angel." Wahb ibn Munabbih said: "There is a river in the sky, seven times wider than the entire earth. A special angel comes down from the sky, fills this river, bathes in it, and from the drops that fall, light comes out — from each drop, an angel is created. These angels glorify Allah with the tasbih (praise) equal to the tasbih of all other creations." Imam Al-Awza’i narrated: Prophet Musa (AS) asked Allah, “Who is with You in the heavens?” Allah replied, “My angels.” He then asked, “How many are they?” Allah said, “They are divided into 12 tribes, and each tribe is as many as the particles of the earth.” Al-Ala bin Harun said: "Every day, Jibreel (AS) dives into the river of Kauthar. From every drop that shakes off him, a new angel is created." Ibn Abbas (RA) reported the Prophet ﷺ said: "There is no creation of Allah greater in number than angels. There is no plant that grows without an angel being assigned to it." Hakam ibn Atiyyah said: "When it rains, more angels descend than the number of humans and jinn combined. They count every drop, where it falls, and who will receive sustenance from it." Wahb said: "The seven skies are so full of angels that not even a space equal to a hair’s width is empty. Some angels remain still, some are in ruku (bowing), and others in sujood (prostration). Their bodies tremble in fear of Allah. They have never disobeyed Allah even for a moment." One angel carrying the Throne of Allah has a distance of 500 years between his ankle and his knee. Abdullah ibn Umar (RA) narrated: The Prophet ﷺ said: "Out of ten parts of angels, nine parts are those who constantly praise Allah day and night without any pause, and one part is assigned as guardians of all things." There is not a single space in the sky without an angel in sajda or ruku. Bait al-Ma'mur, a heavenly Kaaba, is directly above the Kaaba on earth. If it were to fall, it would land directly on the Kaaba. Every day, 70,000 new angels pray in it — they never return again. According to Abu Umar and Nauf al-Bakali, angels are divided into ten parts. Nine parts are the Karubiyyun — they are close to Allah and carry His Throne. They praise Him constantly. The one remaining part delivers divine orders and manages the affairs of the universe. Abdur Rahman bin Salman said: • Humans are one part, and jinn are nine. • Jinn are one part, and angels are nine. • Angels are one part, and spirits (Ruh) are nine. • Ruh is one part, and Karubiyyun are nine.: Adi bin Artaah reported from a Sahabi: The Prophet ﷺ said: "There are angels whose shoulders tremble from fear of Allah. When their tears fall, they land on the angels standing in salah and reciting tasbih. Some angels have been in sujood since the beginning of creation and will remain so until the Day of Judgment. Others are in ruku or standing in rows without moving. When Allah appears to them on the Day of Judgment, they will say: 'O Allah, You are pure. We have not worshipped You as You truly deserve to be worshipped.'" وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا: Rabee’ bin Anas said: "Allah taught Adam (AS) the names of all the angels." Abu Shaykh, Shu’ab al-Iman (Bayhaqi), Khateeb Baghdadi, Ibn Asakir, Tafsir Ibn Kathir, Tarikh Baghdad, Kanz al-Ummal, Al-Faqih wa al-Mutafaqqih, etc.

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam