Hazrat Israfil (AS) – The Angel Who Will Blow the Trumpet on Qiyamah
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
Allah, the Lord of the Worlds, has created many great angels, and among them, Angel Israfil (AS) holds a very high and honored position. He is the one who has been given the duty of blowing the Trumpet (Soor) on the Day of Judgment. Many authentic Hadiths describe the creation of Israfil (AS), his responsibilities, his huge size, and how close he is to Allah. These teachings increase our faith and fill our hearts with the fear and remembrance of Allah. In this article, we will learn about the greatness of Israfil (AS) through the sayings of the Prophet (SAW), so we can understand the reality of Qiyamah (Day of Judgment) and the duties of angels.
Hazrat Wahb (RA) said that Allah created the Trumpet (Soor) from a clear white pearl like glass. Allah ordered the Throne (Arsh) to hold the Trumpet, and it did. Then Allah said "Be" (Kun), and Israfil (AS) was created. Allah ordered him to carry the Trumpet, and he did. The Trumpet has as many holes as the number of souls created by Allah. No two souls will come out from the same hole. In the middle of the Trumpet, there is a hole as wide as the distance between the heavens and the earth, and Israfil (AS) has placed his mouth on it. Allah has given him the duty to blow the Trumpet when ordered. Israfil (AS) stands before the Throne, placing his right foot under the Arsh and his left foot ahead. From the moment Allah created him, he has not blinked even once, waiting for the command to blow the Trumpet.
From this Hadith, we learn that the hole on which Israfil (AS) has placed his mouth is as wide as the heavens and the earth, which shows how massive his own body must be.
Hazrat Abu Umamah (RA) narrated that the Prophet (SAW) said: “The name of Jibreel is Abdullah, the name of Mikail is Ubaidullah, and the name of Israfil is Abdur Rahman.”
Hazrat Abu Hurairah (RA) said that a Jewish man asked the Prophet (SAW): "Who is the angel closest to Allah?" The Prophet (SAW) replied: "Israfil is the closest, then Jibreel, then Mikail, then the Angel of Death."
Hazrat Ka’b (RA) said that Israfil (AS) is the angel closest to Allah. He has four wings – one in the East, one in the West, one covers his body, and the fourth is between him and the Preserved Tablet (Lauh-e-Mahfooz). When Allah wants to send a command, the Lauh touches Israfil’s forehead. He raises his head, reads the command, and calls Jibreel (AS) to deliver it. Jibreel (AS) then descends from one heaven to another, and the angels fear if the command is for Qiyamah, until Jibreel (AS) informs them that it is a revelation of truth for a Prophet.
Imam Awza’i said when Israfil (AS) recites Tasbeeh (Glorification of Allah), all the angels in the heavens stop their prayers just to listen to him, because his voice is the most beautiful among all of Allah’s creation.
Hazrat Saeed bin Jubair (RA) said that Israfil (AS) is the Mu’azzin (caller to prayer) of the heavens. He calls the Adhan 24 times a day—12 times during the day and 12 times during the night. All the creatures of the seven heavens and seven earths hear his Adhan, except for jinn and humans.
Ibn Abi Jablah (RA) narrated that on the Day of Judgment, Israfil (AS) will be the first to be called by Allah. Allah will ask: “Did you deliver My message?” Israfil (AS) will reply: “Yes, I delivered it to Jibreel (AS).” Then Jibreel (AS) will be asked, and he will confirm that he delivered it to the Prophets. Then the Prophets will confirm they received the message.
Hazrat Abu Sinan (RA) said that the Lauh (Preserved Tablet) is very close to Allah's Arsh (Throne). When Allah wills a command, it is written in the Lauh, and the Lauh touches Israfil’s forehead. Israfil (AS) does not look up due to Allah’s Glory, but when the Lauh strikes his forehead, he reads the command. If it concerns the heavens, he gives it to Mikail (AS); if it concerns the earth, he gives it to Jibreel (AS).
On the Day of Judgment, the Lauh will be questioned first about delivering Allah’s commands. It will testify that Israfil (AS) is the witness, and Israfil (AS) will confirm he passed the commands to Jibreel (AS). They will all testify before Allah, glorifying Him.
Hazrat Dhamrah (RA) said that Israfil (AS) was the first to bow down in prostration to Hazrat Adam (AS). As a reward, Allah wrote the Quran on his forehead.
Hazrat Ibn Amr (RA) narrated a story where the Sahabah asked the Prophet (SAW) about the source of good and bad deeds. Abu Bakr (RA) said good deeds are from Allah and bad deeds from humans. Umar (RA) said both good and bad are from Allah. The Prophet (SAW) said: "I will decide between you like Israfil decides between Jibreel and Mikail when they differ." Israfil (AS) said: "Everything, good or bad, sweet or bitter, is from Allah." The Prophet (SAW) explained that if Allah had not willed disobedience, He would not have created Iblees.
These hadiths show that Israfil (AS) is always waiting for Allah’s command to blow the Trumpet. His greatness, nearness to Allah, and dedication to carrying out Allah's orders teach us to strengthen our faith and prepare for the Day of Judgment. May Allah give us the ability to understand these hidden realities, believe in them, and act upon them. Ameen.
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ رب العزت نے کائنات کی تخلیق میں جو عظیم فرشتے پیدا فرمائے ہیں، ان میں حضرت اسرافیل علیہ السلام کا مقام نہایت بلند اور جلیل القدر ہے۔ قیامت کے دن صور پھونکنے کی ذمہ داری انہی کو سونپی گئی ہے۔ مختلف احادیث مبارکہ میں حضرت اسرافیل علیہ السلام کی تخلیق، ان کی ذمہ داریاں، ان کے جسمانی اوصاف اور ان کے مقام قربِ الٰہی کا تفصیلی ذکر ملتا ہے جو ایمان کو تازگی اور دل کو خشیت سے بھر دیتا ہے۔ اس مضمون میں ہم حضرت اسرافیل علیہ السلام کی شان و عظمت کو معتبر احادیث کی روشنی میں بیان کریں گے تاکہ ہمیں قیامت کے دن کے ہولناک مناظر اور فرشتوں کی ذمہ داریوں کا حقیقی شعور حاصل ہو۔
حضرت وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے صور کو شیشہ کی طرح صاف سفید موتی سے پیدا فرمایا اور عرش کو حکم فرمایا کہ صور لے لے تو اس نے لے لیا پھر اللہ تعالی نے فرمایا ”کن ،، ( ہو جا) تو اسرافیل وجود میں آگئے تب اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا کہ وہ صور اٹھا لے تو اس نے اٹھا لیا اس میں ہر پیدا شدہ روح اور ہر سانس لینے والے نفس کی تعداد کے برابر سوراخ ہیں ۔ دوروحیں(اس کے ) ایک سوراخ سے نہیں نکل سکتیں۔ صور کے درمیان میں آسمان اور زمین کی گولائی کے برابر سوراخ ہے اور اسرافیل نے اس سوراخ پر اپنا منہ رکھا ہوا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا کہ میں نے تجھے صور کے سپرد کیا ہے پس تو پھونکنے اور چیخنے پر مقرر ہے ۔ تب اسرافیل عرش کے سامنے داخل ہوئے اور اپنا داہنا پاؤں عرش کے نیچے رکھا اور بایاں پاؤں آگے کیا اور جب سے اللہ نے اسے پیدا فرمایا تب سے اس نے پلک بھی نہیں جھپکائی کیونکہ وہ اس کی انتظار میں ہے جس کا اسے حکم فرمایا گیا ہے ۔
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ جس صور کے سوراخ پر حضرت اسرافیل کا منہ مبارک ہے وہ سوراخ آسمان اور زمین کی گولائی کے برابر ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ خود حضرت اسرافیل کا اپنا جسم کتنا بڑا ہو گا۔
( حدیث ) حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اِسْمُ جِبْرِيلَ عَبْدُ اللَّهِ وَاسْمُ مِيكَائِيلَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَاسْمُ إِسْرَافِيلَ عَبْدُ
الرَّحْمَنِ. .
۔ ( ترجمہ ) حضرت جبرائیل کا نام عبداللہ ہے، حضرت میکائیل کا نام عبید اللہ
ہے اور حضرت اسرافیل کا نام عبدالرحمن ہے۔
(حدیث) حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے کہا اے رسول اللہ مجھے اس فرشتہ کے متعلق بتلائیں جو خدا کے زیادہ قریب ہے آپ نے فرمایا جو فرشتہ خدا کے قریب ہے وہ اسرافیل ہے پھر جبرائیل ہے پھر میکائیل ہے پھر موت کا فرشتہ ہے۔
اسرافیل کے پر اور لباس کے متعلق
حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب حضرت اسرافیل ہیں جس کے چار پر ہیں ۔ ایک پر مشرق میں ہے ایک مغرب میں اور تیسرے سے اس نے اپنے آپ کو ڈھانپا ہوا ہے چوتھا اس کے اور لوح محفوظ کے درمیان ہے، جب اللہ تعالی کسی حکم کی وحی کا ارادہ فرماتے ہیں تو لوح محفوظ اسرافیل کی پیشانی کو آ ٹکراتی ہے تو وہ اپنا سر اٹھاتا اور دیکھتا ہے تو اس میں حکم لکھا ہوتا ہے پس وہ جبرائیل کو پکارتا ہے تو وہ لبیک کہتے ہیں ۔ تو وہ بتلاتا ہے کہ آپ کو ایسا ایسا حکم فرمایا گیا ہے پس جبرائیل ایک آسمان سے دوسرے آسمان پر نہیں اترتے مگر وہاں کے فرشتے خوف قیامت سے ( کہ شاید قیامت آنے کا حکم دیا گیا ہے ) گھبرا جاتے ہیں یہاں تک کہ جبرائیل بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق نازل ہوا ہے اس کے بعد وہ کسی نبی پر نازل ہو کر وحی پیش کرتے ہیں ۔
امام اوزاعی فرماتے ہیں کہ جب حضرت اسرافیل ( علیہ السلام) تسبیح کہتے ہیں تو آسمان کا ہر فرشتہ ان کی ( خوش الحانی کی وجہ سے ) تسبیح سننے کے لئے اپنی نماز روک دیتا ہے۔ ہے۔ امام اوزاعی فرماتے ہیں اللہ کی مخلوق میں حضرت اسرافیل سے زیادہ خوش آواز کوئی نہیں ہے جب وہ تسبیح شروع کرتا ہے تو ساتوں آسمانوں کے فرشتے اپنی نمازیں اور تسبیحات روک دیتے ہیں سے
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ اسرافیل آسمان والوں کے مؤذن ہیں یہ بارہ گھڑی دن میں اور بارہ گھڑی رات میں اذان دیتے ہیں ہر گھڑی میں دو اذانیں ہوتی ہیں اس کی اذان کو سات آسمانوں اور سات زمینوں والے سنتے ہیں مگر جنات اور انسان نہیں سنتے ، پھر ان میں سے ایک بڑا فرشتہ آگے بڑھ کر ان کی امامت کرتا ہے۔ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ہمیں یہ بات بھی پہنچی ہے کہ حضرت میکائیل بیت المعمور میں فرشتوں کی امامت کرتے ہیں ۔ ۔
ابن ابی جبلہ رضی اللہ عنہ اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ سب سے پہلے روز قیامت حضرت اسرافیل کو پکارا جائے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو نے میرا عہد ( پیغام پہنچایا تھا ؟ وہ عرض کرے گا جی ہاں ، میرے پروردگار میں نے اسے جبرائیل تک پہنچا دیا تھا۔ پھر جبرائیل کو پکارا جائے گا اور کہا جائے گا کیا تجھے میرا عہد اسرافیل نے پہنچا دیا تھا ؟ وہ کہے گا جی ہاں میرے پروردگار ، تو اسرافیل کو آزاد کر دیا جائے گا۔ پھر جبرائیل سے فرمائیں گے اے جبرائیل تو نے میرے عہد کے ساتھ کیا کیا ؟ وہ عرض کرے گا اے میرے پروردگار میں نے (اسے ) آپ کے رسولوں تک پہنچا دیا تھا ، پھر رسولوں کو بلایا اور فرمایا جائے گا کیا جبرائیل نے آپ تک میرا پیغام پہنچا دیا تھا تو وہ عرض کریں گے جی ہاں تو جبرائیل کو بھی آزاد کر دیا جائے گا۔
حضرت ابوسنان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب لوح ہے جو عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے جب اللہ تعالی کسی شے کا ارادہ فرماتے ہیں تو لوح میں لکھ دیتے ہیں تو یہ لوح اسرافیل کے ماتھے کو آ کر ٹکراتی ہے جبکہ اسرافیل نے عظمت خداوندی سے اپنا سر اپنے پر سے چھپایا ہوتا ہے اور اپنی نظر نہیں اٹھاتا ، پس یہ اس میں نظر کرتا ہے اگر تو یہ حکم آسمان والوں سے متعلق ہوتا ہے تو اسے میکائیل کے سپرد کرتا ہے اور اگر زمین والوں سے متعلق ہوتا ہے تو حضرت جبرائیل کے سپرد کرتا ہے۔ پس سب سے پہلے روز قیامت جس کا حساب ہوگا وہ لوح ہوگی ۔ جب اسے بلایا جائے گا تو اس کے سب جوڑ کا نپتے ہوں گے، اسے کہا جائے گا کیا تو نے (میرے احکام ) پہنچا دیئے تھے؟ وہ عرض کرے گی جی ہاں تو کہا جائے گا تیرے حق میں کون گواہی دیگا تو وہ عرض کرے گی اسرافیل ۔ تو اسرافیل کو بلایا جائے گا اس کے بھی سب جوڑ کا نپتے ہوں گے اسے بھی کہا جائے گا کیا تجھے لوح نے (میرے احکام ) پہنچا دیئے تھے؟ جب وہ عرض کریں گے جی ہاں تو لوحِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَانِي مِنْ سُوءِ الْعَذَابِ
( سب تعریفات اس اللہ کی ہیں جس نے مجھے برے عذاب سے نجات عطاء
فرمائی ) ۔ پڑھے گی پھر اسی طرح سے سوال ہوتا چلا آئے گا ۔
حضرت ضمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت آدم کو سب سے پہلے حضرت اسرافیل نے سجدہ کیا تھا ، اسی کے انعام میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ان کی پیشانی پر تحریر کرایا ۔
( حدیث ) حضرت ابن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ جماعتیں حاضر ہوئیں اور عرض کیا اے رسول اللہ ! ابوبکر رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ نیکیاں اللہ کی طرف سے ہوتی ہیں اور برائیاں بندوں کی طرف سے، اور عمرؓ فرماتے ہیں نیکیاں اور برائیاں (سب) اللہ کی طرف سے ہوتی ہیں ، ایک جماعت ان کی پیروی کر رہی ہے اور ایک جماعت ان کی ۔ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہارے درمیان جبرائیل اور میکائیل کے درمیان اسرافیل جیسے فیصلہ کی طرح فیصلہ کروں گا وہ یہ کہ میکائیل نے ابوبکر " جیسی بات کہی تھی اور جبرائیل نے عمر جیسی پس جبرائیل نے میکائیل سے فرمایا ہم تو ایسے ہیں کہ جب آسمان والوں میں اختلاف ہوتا ہے تو زمین والوں میں اختلاف ہوتا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اسرافیل کے پاس فیصلہ لے جائیں تو وہ اپنا فیصلہ ان کے پاس لے گئے تو انہوں نے ان دونوں کے درمیان یہ فیصلہ کیا کہ حقیقت میں تقدیر اچھی ہو یا بری ، میٹھی ہو یا کڑوی سب اللہ کی طرف سے ہے۔ پھر آپ نے فرمایا اے ابو بکر ! اگر اللہ تعالی ارادہ کرتے کہ نافرمانی نہ ہو تو ابلیس کو پیدا نہ فرماتے۔ تو حضرت ابوبکر نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ۔ان احادیث مبارکہ سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ حضرت اسرافیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم کے منتظر ہیں کہ کب صور پھونک کر قیامت کا آغاز کریں۔ ان کی عظمت، قرب الٰہی، اور اللہ کے احکام کی تعمیل میں ان کی بے مثال ثابت قدمی ہمارے ایمان کو مضبوطی عطا کرتی ہے۔ ان کے مبارک وجود اور ان کی ذمہ داریوں کے متعلق غور و فکر کرنے سے نہ صرف قیامت کے دن کی تیاری کی فکر پیدا ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے نظامِ کائنات پر ایمان مزید راسخ ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں اپنی تخلیق کے ان عظیم رازوں کو سمجھنے، ان پر ایمان لانے اور عمل صالح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment